پاکستان کی بنیاد دو قومی نظریے پر رکھی گئی، مگر قائدِ اعظم محمد علی جناح کا خواب صرف ایک خطے کی جغرافیائی تقسیم نہیں تھا۔ 11 اگست 1947 کو دستور ساز اسمبلی میں ان کا تاریخی بیان ہماری ریاست کا منشور ہے: “آپ آزاد ہیں۔ آپ اپنے مندروں میں جانے کے لیے آزاد ہیں، اپنی مسجدوں میں جانے کے لیے آزاد ہیں… مذہب کا ریاستی معاملات سے کوئی تعلق نہیں۔”* آج، 75 سال بعد، سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے اُس خواب کو پامال تو نہیں کر دیا؟
آئین اور زمینی حقیقت
پاکستان کا آئین آرٹیکل 20 کے تحت ہر شہری کو “مذہب کی آزادی” کا حق دیتا ہے۔ مگر کیا یہ حق کاغذوں تک محدود ہے؟ احمدی، ہندو، عیسائی، شیعہ، اور دیگر مذہبی اقلیتیں آج بھی نفرت کی نگاہوں سے دیکھی جاتی ہیں۔ گودھرا کے واقعے سے لے کر لاہور کے مندروں پر حملے تک، تاریخ کے اوراق پر مذہبی اقلیتوں کے خون کے دھبے ہیں۔ کیا یہی وہ پاکستان ہے جس کا خواب جناح نے دیکھا تھا؟
پچھلے دس سالوں میں پاکستان میں مذہبی بنیادوں پر تشدد کے واقعات میں 62% اضافہ ہوا ہے (امن کے لیے پاکستانی انسٹی ٹیوٹ کی رپورٹ)۔ کچھ واقعات کو “ذاتی انتقام” کا نام دے کر نظرانداز کر دیا جاتا ہے، کچھ کو مذہبی جذبات سے ہوا دی جاتی ہے۔ مگر سچ یہ ہے کہ مذہبی اقلیتوں کے خلاف تشدد ایک منظم سوچ کا نتیجہ ہے جس کی جڑیں تعلیمی نظام، انتہا پسند بیانیے، اور قانون کی کمزور عملداری میں پیوست ہیں۔
ہمارے اسکولوں کے نصاب میں غیر مسلموں کو “دوسرا” درجہ دیا جاتا ہے۔ میڈیا پر ٹاک شوز میں مذہبی اقلیتوں کو طنز کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ کیا کبھی کسی ٹی وی چینل نے ہندو پنڈت یا عیسائی پادری کو یہ کہتے سنا ہے کہ “ہمارا پاکستان سب کا ہے”؟ جب تک ہم اپنے بچوں کو یہ نہیں سکھاتے کہ “اختلاف کا احترام” بھی ایمان کا حصہ ہے، تب تک مذہبی ہم آہنگی کا خواب ادھورا رہے گا۔
بلاسفیمی کے مقدس قانون کو کبھی کبھی ذاتی دشمنیوں اور جائیداد کے تنازعات کو حل کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ پولیس کے اعدادوشمار کے مطابق، بلاسفیمی کے 89% مقدمات جھوٹے یا بے بنیاد تھے۔ کیا یہ قانون مذہب کا تحفظ کر رہا ہے یا انصاف کے نظام کو بدنام؟
مایوسی کے اس دور میں، کچھ مثالیں ہمیں حوصلہ دیتی ہیں:
– سندھ اسمبلی نے میں ہندو شادیاں رجسٹر کرنے کا قانون منظور کیا۔
– پنجاب کی عدالت نے ایک عیسائی لڑکی ماریہ کے اغوا کیس میں فوری انصاف دیا۔
– سیول سوسائٹی کے گروپس جیسے “پاکستان مذہبی آزادی نیٹ ورک” نے مذہبی ہم آہنگی کے لیے کام شروع کیا ہے۔
مذہبی آزادی صرف اقلیتوں کا مسئلہ نہیں، یہ پاکستان کی بقا کا مسئلہ ہے۔ جس طرح ایک درخت کو زندہ رہنے کے لیے تمام شاخوں کی ضرورت ہوتی ہے، اسی طرح ایک ریاست تبھی مضبوط ہوتی ہے جب وہ اپنے ہر شہری کو یکساں تحفظ دے۔ اقبال کا یہ شعر ہماری رہنمائی کرتا ہے:
مذہب نہیں سکھاتا آپس میں بیر رکھنا
ہندی ہیں ہم، وطن ہے ہندوستان ہمارا۔
ہمیں اپنے وطن کو “پاکستان” بنانا ہے جہاں ہر مذہب کے ماننے والے کو جناح کے الفاظ میں “پورے دماغ، پورے دل، اور پوری جان کے ساتھ” آزادی ملے۔
مصنف: سید طلعت شاہ


