مرکزی اپوزیشن کی طرف سے “اشتعال انگیزی” ان کی حکومت کو مشتعل نہیں کرے گی، ایردوان

انقرہ (ایچ آراین ڈبلیو) ترک صدر رجب طیب ایردوان نے کہا ہے کہ مرکزی اپوزیشن کی طرف سے “اشتعال انگیزی” ان کی حکومت کو مشتعل نہیں کرے گی۔ ان کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب استنبول کے میئر اکرم امام اوگلو کی گرفتاری کے بعد ترکیہ میں ایک دہائی سے زائد عرصے میں سب سے بڑے حکومت مخالف مظاہرے دیکھے جا رہے ہیں۔

انقرہ میں پارلیمنٹ میں حکمران جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی (آق) کے ارکان سے بات کرتے ہوئے ایردوآن نے کہا کہ حزب اختلاف کے ارکان نے وہ معلومات اور دستاویزات فراہم کیں جو امام اوگلو کے خلاف بدعنوانی کے مقدمے کی بنیاد بنتی ہیں، جس کی بنا پر انہیں اتوار کو حراست میں لے لیا گیا۔

رائیٹرز نے بتایا کہ آج بدھ کو ترکیہ میں احتجاج جاری رہا۔ استنبول کے میئر کی گرفتاری کے ایک ہفتے بعد حکومت کے خلاف احتجاج جاری ہے جب کہ صدر رجب طیب ایردوآن کہہ چکےہیں ان کی حکومت اپوزیشن کے ہنگاموں سے”دہشت زدہ نہیں ہوٰگی‘‘۔

ریپبلکن پیپلز پارٹی ’سی ایچ پی‘کے رہنما اوزگور اوزیل نے اعلان کیا کہ وہ “استنبول میونسپلٹی کے سامنے رات کے وقت مظاہروں” کی کال بند کر دیں گے۔

تاہم انہوں نے شہر کے ساتھ ساتھ دارالحکومت انقرہ اور ملک کے تیسرے سب سے بڑے شہر ازمیر میں گذشتہ ہفتے سے پابندی کے باوجود استنبول میں ہفتے کے روز ایک بڑے مظاہرے کی کال دی۔

اے ایف پی کے صحافیوں کے مطابق پولیس نے 19 مارچ سے اب تک 1,400 سے زائد افراد کو گرفتار کیا ہے، منگل کو استنبول میں مظاہرین کو بغیر کسی تشدد کے منتشر کر دیا۔

سرکاری انادولو ایجنسی کے مطابق استنبول میں حالیہ دنوں میں 172 افراد کو مظاہروں کے دوران اشتعال انگیزی، تشدد کی کارروائیوں یا چہرے چھپانے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں