فتنہ ال خوارج کے اہم خوارجی شوکت خان کو نامعلوم افراد نے ہلاک کر دیا

جلال آباد (ایچ آراین ڈبلیو) افغانستان کے صوبہ ننگرہار کے دارالحکومت جلال آباد میں فتنہ ال خوارج کے اہم خوارجی شوکت خان کو نامعلوم افراد نے ہلاک کر دیا۔

معتبر ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ شوکت خان چند روز قبل نامعلوم افراد کے ہاتھوں اغوا ہوا تھا، اور گزشتہ روز اس کی لاش جلال آباد میں برآمد ہوئی۔

شوکت خان کا تعلق خیبرپختونخوا کے ضلع باجوڑ سے تھا اور وہ فتنہ ال خوارج کا سرگرم رکن سمجھا جاتا تھا۔

اطلاعات کے مطابق، اس کا باپ بھی فتنہ ال خوارج کا خوارجی تھا ے، جو سابق افغان حکومت کے دور میں صوبہ کنڑ میں مارا گیا تھا، جبکہ اس کا بھائی، یونس، بھی باجوڑ میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی کے دوران مارا گیا تھا۔

یہ واقعہ ثابت کرتا ہے کہ افغانستان میں فتنہ ال خوارج کے خوارجی موجود ہیں-

پاکستان نے ہمیشہ بین الاقوامی فورمز پر واضح مؤقف اختیار کیا ہے کہ افغانستان میں فتنہ الخوارج کے ٹریننگ کیمپ موجود ہیں۔

یہ واقعہ بھی اس حقیقت کا ناقابلِ تردید ثبوت ہے کہ پاکستان میں ہونے والی دہشتگردی کے پیچھے افغانستان کا ہاتھ ہے۔
افغانستان پاکستان کے خلاف کل بھی سانپ پال رہا تھا اور آج بھی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں