کرا چی (ایچ آراین ڈبلیو) پاکستان پیپلز پارٹی کا چولستان کے لیے نکالی جانے والی کینالوں کے منصوبے کے خلاف بھرپور احتجاج کا اعلان کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی سندھ کے صدر نثار احمد کھوڑو ، جنرل سیکرٹری وقار مھدی اور پاکستان پیپلز پارٹی سندھ کے اطلاعات سیکریٹری سینیٹر عاجز دھامراہ نے اپنی ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی سندھ نے سندھو دریائے پر 6 کینالوں کے منصوبے کے خلاف احتجاجی تحریک شروع کرنے اور 25 مارچ بروز منگل کو سندھ بھر کے تمام ضلعی ہیڈ کوارٹرز میں احتجاج کا اعلان کر رہی ہے انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کیجانب سے متنازعہ 6 کینال منصوبے کے خلاف 25 مارچ منگل کو سندھ کے تمام ضلعی ہیڈکوارٹرز میں ریلیاں نکالی جائینگی اور احتجاجی مظاھرے کئے جائینگے۔ نثار کھوڑو نے مزید کہا کہ کینالوں کے اس منصوبے کے خلاف جلسے بھی کرینگے اور گلی گلی احتجاج بھی کیا جائے گا کرینگے۔ انہوں نے کہا کہ متنازعہ کینال منصوبہ غیر قانونی منصوبہ ہے جس کو نہیں بن جانا چاہئے۔ پیپلز پارٹی 6 کینالوں کے منصوبے کے خلاف تمام آئینی فورمز، ایوانوں اور سڑکوں پر جدوجھد کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی آئینی فورم پر منظوری کے بنا چولستان کینال کی تعمیر کا کام شروع کراکے وفاقی حکومت نے آمریت کی یاد تازہ کردی ہے۔ماضی میں آمر پرویز مشرف نے آئینی فورمز کی منظوری کے بغیر تھل کینال تعمیر کروایا اور اب ن لیگ کی وفاقی حکومت چولستان کینال سمیت 6 کینال منصوبے پر آمرانہ کردار ادا کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت نے چولستان کینال سمیت متنازعہ کینالوں کے لئے بجٹ میں رقم مختص کرکے غیر آئینی کام کیا ہے۔ 6 کینالوں کے منصوبے کی کسی بھی آئینی فورم سے منظوری نہیں ہوئی تو پہر چولستان کینال کی تعمیر شروع کرنا اور رقم مختص کرنا وفاقی حکومت اور پنجاب حکومت کا غیر آئینی اقدام ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی دریائے سندھ پر کسی کو بھی کینال نکالنے نہیں دے گی۔ سندھ میں کینال منصوبے کے خلاف ہر مقطبہ فکر کے احتجاج کی حمایت کرتے ہیں۔ اس موقع پر انہوں نے سندھ کی عوام کو اپیل کرتے ہوئے کہا کہ آو مل کر ان کینالوں کے خلاف مشترکہ جدوجھد کریں۔ سیاسی جماعتوں سے شکوہ ہے کے وہ پیپلز پارٹی پر تو تنقید کر رہے ہیں مگر کینال منصوبے کےخلاف کوئی ریلیاں نہیں نکالی ہیں۔ پیپلز پارٹی کینالوں کے منصوبے کے خلاف مشترکہ جدوجھد کرنے کےلئے تیار ہے جس کے لئے تمام سیاسی، قومپرست جماعتوں وکلا اور سول سوسائٹی کے رہنماؤں سے رابطے کرکے ملاقات کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ کینالوں کے خلاف ایک آواز اثر کرے گا۔چولستان کینال منصوبہ کالاباغ ڈیم سے بھی زیادہ خطرناک ہے جس سے سندھ بنجر بن جائے گا۔ جس طرح ماضی میں ن لیگ کی حکومت کو کالاباغ ڈیم سے دستبرداری کا اعلان کرنا پڑا اسی طرح موجودہ ن لیگ کی حکومت کو ان 6کینال منصوبوں سے دستبرداری کا اعلان کرنا پڑے گا انہوں نے کہا کہ کینالوں کے معاملے کو آصف زرداری نے وفاقی حکومت کا یکطرفہ فیصلہ قرار دے کر یہ ثابت کردیا ہے کے صدر کینالوں کے معاملے میں ملوث نہیں ہے۔ چولستان کینال سمیت 6 کینالوں کا منصوبہ ایکنک سمیت کسی آئینی فورم سے منظور نہیں کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ اسمبلی میں 6 کینالوں کے منصوبے کے خلاف سندھ اسمبلی میں قرارداد منظور کرادی ہے ،کینالوں کے معاملے پر پیپلزپارٹی پر الزام لگا کر قومی حکومت بنانے کی سازش ہو رہی ہے تاکے جمھوری حکومت ختم ہو اور قومی حکومت بنے۔ انہوں نے کہا کہ فواد چودھری قومی حکومت بننے کا اشارہ دے چکے ہیں۔ پرویز مشرف نے ایگزیکٹو آرڈر کے تحت گریٹر تھل کینال بنایا جس کی پیپلز پارٹی سمیت تمام جماعتوں نے مخالفت کی اور اب آمریت کا دور نہیں ہے۔


