کراچی سمیت پورے پاکستان میں طلاق اور خلع کی شرح میں تشویشناک حد تک اضافہ ہوگیا ہے ، صرف کراچی کی بات کی جائے تو پتہ چلتا ہے کہ کراچی کی فیملی کورٹس میں گزشتہ سال ازدواجی رشتہ ختم کرنے کے11ہزار کیسز دائر کئے گئے ۔
جبکہ ملک بھر میں بھی گزشتہ 5سالوں میں طلاق اور خلع کی شرح میں تشویشناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں طلاق اور خلع کی شرح میں پچھلے پانچ سالوں میں 35 فیصد اضافہ ہوا ہے
ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں پچھلے چار سالوں میں خلع کے مقدمات کی تعداد دوگنی ہوگئی ہے۔اس حوالے سے ادارہ شماریات کے جاری اعداد وشمار کے مطابق ملک میں طلاق یافتہ خواتین کی تعداد 4 لاکھ 99 ہزار ریکارڈ کی گئی۔
کراچی میں سال 2020میں کراچی کی فیملی کورٹس میں ازدواجی رشتہ ختم کرنے کے 5 ہزار 8 سو کیسز دائر ہوئے جبکہ 2024میں 11ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے خلع اور طلاق کمزور خاندانی نظام کی عکاسی کرتی ہے۔
اور اس خاندانی نظام کا خاتمہ دراصل موبائل اور سوشل میڈیا بن چکا ہے جس سے موجودہ نسلیں اپنی فیملی کو وقت دینے کے بجائے دن رات ان مختلف اپلیکیشن میں مصروف رہتی ہیں، جس نے جوائنٹ فیملی سسٹم کو بھی شدید متاثر کیا ہے
سوشل میڈیا پر مختلف اپلیکیشن کے ذریعے اسٹار بننے کے رجحان نے بے شمار گھروں کو اجاڑ دیا ہے اور دیکھنے میں یہ آیا ہے کہ سوشل میڈیا اسٹار بننے کی دوڑ میں لڑکیاں و خواتین زیادہ تیز دوڑ رہی ہیں جس کی وجہ سے شادی شدہ ہونے کی صورت میں ان کی ازدواجی زندگیاں بھی برباد ہو رہی ہیں
خلع کی ایک بڑی وجہ یہ بھی سامنے آئی ہیں کہ خلع کے زیادہ تر کیسز ایسی خواتین کی جانب سے دائر کئے گئے ہیں جنہوں نے اپنے والدین کی رضامندی کو نظر انداز کرتے ہوئے پسند کی شادی کی تھی، جس سے ثابت ہوا کہ وقتی جذبات کی رو میں بہنے کے بعد کی جانے والی شادیاں ہوا میں جلتا چراغ کی مانند ہی ہوتی ہیں جو کسی بھی لمحہ بجھ جاتا ہے
ایک پروفیشنل وکیل کی حیثیت سے بھی میرا یہ تجربہ رہا ہے کہ خلع کے کیسز میں ابتدائی نوٹس ہونے کے بعد عدالت مصالحت کے لئے “پری ٹرائل” اسٹیج رکھتی ہے ، اس میں جج صاحبان دونوں فریقین یعنی میاں بیوی کو اپنے چیمبر میں بلا کر اختلافات کی وجوہات پوچھتے ہیں اور اپنی دانست میں بھرپور کوشش کرتے ہیں کہ دونوں کے درمیان صلح ہو جائے اور ایک شرعی رشتہ برقرار رہ جائے
اور اگر دونوں فریقین کے بچے بھی ہوں تو ان بچوں کی زندگی بھی برباد ہونے سے بچ جائے ، لیکن میں نے دیکھا ہے کہ جو ایک عورت ایک بار خلع کے لئے عدالت کی دہلیز پر چڑھ جاتی ہے تو پھر خلع لے کر واپس آتی ہے، اور پری ٹرائل میں صلح کی شرح شاید ایک فیصد ہی ہو، لیکن میرے کیسزمیں ایک بار بھی میں نے پری ٹرائل اسٹیج پر صلح کو کامیاب ہوتے نہیں دیکھا
میں نے اپنی زندگی میں پھر ان خلع لینے والی خواتین کو رلتے بھی دیکھا اور حسن اتفاق کسی کو کوئی اور اچھا لائف پارٹنر مل گیا تو پنپتے بھی دیکھا، لیکن ایسے رلنے والے واقعات بے شمار اور پنپنے والے چند ایک ہی دیکھے،
ایک وکیل کی حیثیت سے میں بچیوں، خواتین جو کہ محض کسی سراب پر چلنے کے لئے خلع کا دروازہ کھٹکھٹاتی ہیں انہیں اپنے فیصلے پر بار بار اور ہزار بار سوچنا چاہیے، برداشت اور گنجائش کا مادہ پیدا کرنا چاہیے، میاں اور بیوی دونوں اگر اس نیت کے ساتھ بات چیت کریں گے تو ان کا پری ٹرائل عدالت کے اسٹیج پر آنے سے پہلے ہی کامیاب ہو جائے گا
دوسری جانب گیلپ پاکستان کی جانب سے سروے میں حصہ لینے والے ہر پانچ میں سے دو افراد کا خیال ہے کہ غیر ضروری خواہشات اور عدم برداشت طلاق اور خلع کے معاملات میں اضافے کا سبب بن رہا ہے
ہیومن رائٹس میڈیا نیٹ ورک کا مقصد بھی یہی ہے کہ وہ عوام الناس میں بہتری لانے اور مثبت سوچ کو پروان چڑھانے کی کوشش کرتا ہے، کیونکہ ہماری کوششوں سے ایک گھر بھی بچ گیا تو ہم سمجھیں گے ہماری محنت وصول ہو گئی


