اس بار بدترین بجٹ پر عوام کو یہ بتایا جائے گا کہ آئی ایم ایف کی ہدایت کی وجہ سے عوام پر ٹیکس لگایا گیا ہے۔سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں بھی صرف 10 فیصد اضافے کا امکان ہے اور اس پر بھی بہانہ آئی ایم ایف کا لگے گا۔
دوسری جانب تمام اراکین اسمبلی کی تنخواہوں میں کئی سو فیصد اضافہ ہو چکا ہے۔تمام وزراء اور مشیروں کی تنخواہوں میں بھی ہوشربا اضافہ ہوا ہے۔
پہلے اراکینِ اسمبلی کی تنخواہیں ایک لاکھ سے بڑھا کر پانچ لاکھ 19 ہزار کی گئیں۔
پھر پنجاب اسمبلی میں اراکین کی تنخواہیں 76 ہزار سے بڑھا کر چار لاکھ کی گئیں۔
صوبائی وزیر کی تنخواہ ایک لاکھ روپے تھی جو بڑھا کر 9 لاکھ 60 ہزار ماہانہ کی گئی۔
پنجاب اسمبلی میں سپیکر کی تنخواہ ایک لاکھ 25 ہزار سے بڑھا کر نو لاکھ 50 پچاس ہزار روپے کر دی گئی اور ڈپٹی سپیکر کی تنخواہ کو ایک لاکھ بیس ہزار روپے سے بڑھا کر سات لاکھ 75 ہزار روپے کر دیا گیا ۔
پنجاب اسمبلی میں پارلیمانی سیکریٹری کی تنخواہ 83 ہزار روپے سے بڑھا کر چار لاکھ 51 ہزار روپے کی گئی اور اسی طرح وزیر اعلیٰ کے مشیروں کی تنخواہ بھی ایک لاکھ روپے سے بڑھا کر چھ لاکھ 65 ہزار روپے کر دی گئی۔
ابھی کل ہی قومی اسمبلی کے سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کی تنخواہوں میں بھی پانچ سو فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق اورچیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کی تنخواہ 2 لاکھ 18 ہزار سے بڑھا کر 13 لاکھ مقرر کردی گئی ہے۔ بھوک سے تڑپتی ہوئی قوم یہ بھی یاد رکھے کہ ان لوگوں کی تنخواہوں میں اضافہ مہنگائی کی وجہ سے نہیں کیا گیا بلکہ ان کا تو ایک روپے کا خرچہ بھی نہیں ہوتا۔
ان کا پٹرول الاؤنس لگا ہوتا ہے-رہائش فری ہوتی ہے،کچن کا خرچہ فری ہوتا ہے،ڈرائیور کی تنخواہ بھی حکومت کی طرف سے ہوتی ہے ،
میٹنگ کا خرچہ سرکاری خزانے سے ہوتا ہے،کہیں دورہ کرے تو وہ خرچہ بھی سرکاری خزانے سے ہوتا ہے یہاں تک کہ ملک کے اندر جب یہ سفر کرتے ہیں تو ہوٹل میں رہنے کا خرچہ بھی حکومت اٹھاتی ہے۔
ان کے موبائل فون کے چارجز بھی حکومتی خزانے سے ادا ہوتے ہیں۔یہ سب ٹھاٹ باٹھ ہوتے ہوئے بھی ان کی تنخواہوں میں کئی سو فیصد کا اضافہ ہو رہا ہے۔اس وقت ملکی تاریخ کا بدترین بجٹ تیار کیا گیا ہے جہاں عوام کی کھال کھینچنے کی کوشش کی جا رہی ہے اورپہلے سے بیانیہ بنانا شروع کر دیا گیا ہے کہ آئی ایم ایف کی سختی کی وجہ سے عام عوام پر ٹیکس کی بھرمار کی گئی ہے جبکہ خود یہ عیاشیاں کر رہے ہیں۔


