سی ایس ایس کا شرمناک رزلٹ!

مقابلے کے امتحان کاحسب سابق 2% انتہائی شرمناک رزلٹ! سوال یہ ہے کہ جو 2% کامیاب ہوکر پاکستان کے محکموں کا انتظام و انصرام سنبھالتے ہیں ان کی 77 سالہ کارکردگی کیا ہے؟
پاکستان کے کس محکمے نے قیام پاکستان کے بعد سے لے کر اب تک دنیا میں نام پیدا کیا ہے’ تعلیم ‘ تجارت ‘ معیشیت’ انصاف ‘ سائنس ٹیکنالوجی ‘ امن و عامہ ‘ قانون’ محمکہ ڈاک’ ریلوے’ پی آئی اے وغیرہ ۔۔
پاکستان میں ذریعہ تعلیم ‘ مقابلے کے امتحان ‘ عسکری امتحان ‘ انٹرویو ‘ سب انگریزی میں یہ کہہ کر لئے جاتے ہیں کہ انگریزی بہت ضروری ہے ‘ دنیا سے تعلقات بنانے کے لیے ‘ سائنس و ٹیکنالوجی میں ترقی کرنے کے لئے انگریزی کی لازمی حیثیت ناگزیر ہے ‘ انگریزی کے ان غلاموں اور متوالوں سے سوال ہے کہ انگریزی کی وجہ سے پاکستان کے کتنے ممالک سے گہرے مراسم جڑے ہوئے ہیں؟ کیا پاکستانی امریکہ و برطانیہ کے سرکاری ادروں میں انتظامی عہدوں پر فائز ہیں ؟ سائنسی ایجادات و ٹیکنالوجی میں پاکستان کا کیا مقام ہے؟ پاکستان کے انگریزی میں امتحان پاس کر کے جامعات کا انتظام و انصرام وی سی کے زیر انتظام پاکستان کی جامعات دنیا میں کس مقام پر ہے؟ کیا بین الاقوامی دنیا پاکستان کے لکھے گئے مقالات جات اور تحقیقی کام میں دنیا میں بھی کہیں اہمیت ہے؟ امر واقعہ یہ ہے کہ پاکستان کی دنیا کی پہلی ہزار جامعات میں سے ایک بھی جامعہ شامل نہیں جب کہ دنیا میں سب سے مہنگی انگریزی پاکستان میں پڑھائی جاتی ہے’ انگریزی کو اتنی اہمیت حاصل ہے کہ اس کے مقابلے میں پاکستانی زبانیں کیڑے مکوڑےکی حیثیت رکھتی ہیں۔۔پاکستان کی مقامی زبانیں اپنی شناخت کھو کر انگریزی کو اوڑھنا بچھونا بنائے ہوئے ہیں ۔ لیکن اس بے ثمر مہم کا نتیجہ صفر بٹا صفر ہے!
اس کا حل یہی ہے کہ 77 سالہ مقابلے کے امتحان کے نصاب اور زبان کا از سر نو جائزہ لے کر مقابلے امتحان اردو میں لئے جائیں انگریزی ‘ فرانسیسی چین جاپانی جرمن عربی فارسی اور دیگر بین الاقوامی زبانوں کو اختیاری حیثیت دی جائے ۔ پاکستان جب ہی ترقی کرے گا جب دنیا کے تمام ترقی یافتہ ‘ خوشحال ‘ سائنس و ٹیکنالوجی سے مزین ممالک کی طرح اپنی قومی زبان کو ذریعہ تعلیم بنائے گا’ جب دنیا کے بیس ممالک کی زبانوں کو اختیاری مضمون کی حیثیت سے پڑھایا جائے گا تو پاکستان کی تنہائی ختم ہوگی پاکستان کے دنیا کے دیگر ممالک سے بھی تعلقات قائم ہونگے دنیا صرف امریکہ اور برطانیہ کا نام نہیں ہے دنیا میں اور بھی ممالک ہیں جو انگریزی کو مسلط کئے بغیر ان دو ممالک سے رابطے قائم کئے ہوئے ہیں ۔ برطانیہ ‘ امریکہ ‘ فرانس ‘ جرمنی وغیرہ میں ماؤں پر زور دیا جارہا ہے کہ وہ اپنے گھروں میں اپنی مادری زبان بولیں تاکہ ان کے بچوں کی تخلیقی صلاحیتوں کو جلا مل سکے ‘ متعلقہ ممالک کی قومی زبان انہیں خود چ
بخود آجاۓ گی’ کاش ! پاکستان کی غلام اشرافیہ کو بھی یہ بات سمجھ آ سکے کہ وہ نرسری سے انگریزی ذریعہ تعلیم کر کے اس قوم کا بیڑہ کر رہے ہیں ۔ انگریزی ذریعہ تعلیم پاکستان قوم کو مہنگے داموں برباد کررہا ہے!

اپنا تبصرہ بھیجیں