کراچی(ایچ آراین ڈبلیو)جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسرڈاکٹر خالد محمودعراقی نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی ایک عالمی مسئلہ ہے اور خاص طور پر پاکستان کے تناظر میں۔ موسمیاتی تبدیلی ایک فوری اور حل طلب مسئلہ ہے جسے پالیسی سازوں، تعلیمی اداروں، سماجی کارکنوں اور طلباء کے ذریعہ حل کیا جانا ممکن ہے۔درجہ حرارت میں شدت اور تیزی سے ہونے والے اضافے کے باعث،گلیشیئرزکے پگھلنے اور بارشوں کے غیر متوقع پیٹرن کی وجہ سے پانی کی دستیابی میں بھی تیزی سے کمی واقع ہورہی ہے۔درجہ حرارت میں تیزی سے اضافہ صرف موسمیاتی تبدیلی نہیں بلکہ ایک وارننگ ہے،اگرہم نے آج فیصلہ نہیں کیاتوعنقریب ہمارے پاس افسوس کے سوا کچھ نہیں ہوگا۔ ان خیالات کا اظہارانہوں نے سندھ انوائرمینٹل پروٹیکشن ایجنسی (سیپا) اور شعبہ ابلاغ عامہ جامعہ کراچی کے اشتراک سے عالمی یوم ماحولیات کے مناسبت سے ڈاکٹر اے کیوخان انسٹی ٹیوٹ آف بائیوٹیکنالوجی اینڈ جینیٹک انجینئرنگ جامعہ کراچی کی سماعت گاہ میں منعقدہ آگاہی سیمینار بعنوان: ”پلاسٹک کی آلودگی کو کم کرنا“ سے صدارتی خطاب کرتے ہوئے کیا۔
ڈاکٹر خالد عراقی نے مزید کہا کہ ہم یہ کیوں کہہ رہے ہیں کہ ہمیں سنگل پلاسٹک بیگ استعمال نہیں کرنا چاہئے کیونکہ ان میں سے 98فیصد پلاسٹک بیگ بائیو ڈیگریڈیبل نہیں ہیں،انہیں ری سائیکل نہیں کیا جا سکتا اور یہ آپ کے ماحول کو متاثر کرنے میں بہت سی پریشانیوں کا باعث بنتے ہیں۔پلاسٹک کے خاتمے کے لئے ضروری ہے کہ اس تک رسائی کو ختم کیاجائے،دوکانوں اور مارکیٹوں میں پلاسٹک کی عدم موجودگی سے پلاسٹک کو بتدریج کم بلکہ ختم کیاجاسکتاہے۔پلاسٹک کے استعمال اور اس کے ماحول اور انسانی صحت پر اثرات سے متعلق آگاہی کو فروغ دے کرپلاسٹک کے استعمال کو کم یا ترک کیاجاسکتاہے اور یہ آگاہی مستقل بنیادوں پر ہونی چاہیئے۔انہوں نے کہاکہ پلاسٹک کے استعمال کو کم یا ختم کرنے کے لئے اس کے متبادل کا آسانی سے دستیاب ہوناضروری ہے۔
سیکریٹری ماحولیات، موسمیاتی تبدیلی و ساحلی ترقی سندھ آغا شاہنواز خان نے کہا کہ حکومت سندھ کی جانب سے پلاسٹک پر پابندی لگانے کا فیصلہ مارچ کے آخر میں کیا گیا ہے۔پلاسٹک شاپنگ بیگز نہ صرف ماحولیاتی خرابی بلکہ سیوریج نظام کی تباہی کا بھی باعث ہیں۔15 جون کے بعد پلاسٹک بیگز کے خلاف کریک ڈاؤن کا فیصلہ کرلیا ہے اور کراچی، حیدرآباد، میرپورخاص اور لاڑکانہ جیسے بڑے شہروں میں اس مہم کا آغاز کیا جا رہا ہے۔تمام اسٹیک ہولڈرز کو ساتھ بٹھا کر اس پالیسی پر تفصیلی مشاورت کی گئی ہے تاکہ اس پر مؤثر عملدرآمدکو یقینی بنایا جا سکے۔ پلاسٹک آلودگی ایک عالمی ماحولیاتی چیلنج ہے۔ دنیا بھر میں سالانہ 11 ملین ٹن پلاسٹک ماحول میں شامل ہو رہا ہے جو مٹی، پانی اور خوراک کو آلودہ کرتا ہے۔ہمیں ایک دائرہ جاتی معیشت اور ماحول دوست متبادل کو فروغ دینا ہوگا۔ پلاسٹک کے شاپنگ بیگزکے خلاف ہمیں سخت موقف اختیارکرنے کی ضرورت ہے اور اس کے لئے ہم سب کو حکومت کا ساتھ دینے اور پلاسٹک بیگزکے خاتمے کے لئے اپنا اپنا کرداراداکرناچاہیئے اور اپنے خاندان اور آنے والی نسلوں کوماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے بچانے کے لئے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔
ڈائریکٹر جنرل سندھ انوائرمینٹل پروٹیکشن ایجنسی(سیپا) وقار حسین پھلپوٹونے کہا کہ 15 جون سے پلاسٹک بیگز کے استعمال پر مکمل پابندی کا نفاذ ہوگا۔ پہلا مرحلہ صنعتوں کو متبادل تیار کرنے کے لیے وقت دینا تھا اب اسے صوبے بھر میں نافذ کر رہے ہیں۔ اس حوالے سے عوامی آگاہی، کمیونٹی انگیجمنٹ اور قانونی عملدرآمد کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ ہم اس صوبے کو پلاسٹک آلودگی سے پاک کرنا چاہتے ہیں۔ نہ صرف پلاسٹک بیگز بلکہ پلاسٹک بوتلوں کے استعمال کو بھی کم کرنا ہوگا۔سیپا ”نو پلاسٹک کیریئر بیگز” پالیسی پر عملدرآمد کر رہی ہے۔ تمام شعبوں سے تعاون کی اپیل کرتے ہیں کہ اس صوبے کو صاف، سرسبز اور پائیدار بنانے میں ہمارا ساتھ دیں۔ڈی جی سیپا نے مزید کہا کہ ہمیں پلاسٹک کے شاپرز کی جگہ کپڑے کے تھیلے کو استعمال اور اس کو فروغ دینا ہوگا تاکہ پلاسٹک سے ہونے والی ماحولیاتی آلودگی اور اس کے انسانی صحت پر پڑنے والے مضر اثرات سے بچاجاسکے۔صنعتی نگرانی اور ماحولیاتی قو…


