ڈسٹرکٹ ایسٹ بھی غیرقانونی تعمیرات میں چھلانگیں‌ مارتے ہوئے سب سے اوپر بازی لے گیا

کراچی (ایچ آراین ڈبلیو) سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی میں ڈسٹرکٹ ایسٹ بھی غیرقانونی تعمیرات میں چھلانگیں‌ مارتے ہوئے سب سے اوپر بازی لے گیا، صرف اسکیم 24 میں ایک اندازے کے مطابق 150 غیرقانونی عمارتیں زیر تعمیر اور پایہ تکمیل کے قریب ہیں، جس سے مبینہ طور پر فی غیرقانونی تعمیرات 20 لاکھ روپے کی وصولی کی گئی ہے جبکہ اضافی منزلیں اور رہائشی پلاٹ پر تجارتی دکانوں کے ریٹ اس سے ڈھائی تین گنا زیادہ ہے

ایچ آراین ڈبلیو کے مطابق ریٹائرڈ ڈائریکٹر آصف رضوی نے جس طرح اپنے عملے کو شتر بے مہار چھوڑ کر ان کو رشوت کی فیکٹریاں بنایا ہوا تھا اس کا سلسلہ ان کے جانے کے بعد اور تیزی سے ترقی کی جانب گامزن ہے، پلاٹ‌ نمبر A-94 بلاک 13 ڈی 1 میں رہائشی بنگلے کے نقشے پر سڑک کو چھوتی ہوئی پروجیکشن کے ساتھ غیرقانونی پورشن اور دکانیں ایک طرف تعمیراتی قوانین کو منہ چڑا رہے ہیں تو دوسری طرف کراچی میں کرپشن کے زور سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے مبینہ کرپٹ افسران بے تاج بادشاہ بن کر صوبائی خزانہ کی دھجیاں اڑا رہے ہیں

ایچ آراین ڈبلیو کو ذرائع نے بتایا کہ اسکیم 24 گلشن اقبال میں اس وقت کرپشن کمانڈر آصف شیخ نے باگ ڈور سنبھال لی ہے، جہانگیر منگی 6 ماہ تک اس اسکیم کو لوٹ کر ریسٹ کرنے کے لئے اندرون سندھ متعین کر دئیے گئے اب ان کی جگہ آصف شیخ اپنی چھریاں تیز کرتے ہوئے اسکیم 24 کا بیڑہ غرق کرنے میدان میں اتر چکے ہیں اور سندھ حکومت کی مبینہ سرپرستی میں یہ سب دھندہ زور و شور سے چل رہا ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں