وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال کی زیر صدارت انسداد پولیو کا اہم جائزہ اجلاس

اسلام آباد(ایچ آراین ڈبلیو)وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال کی زیر صدارت انسداد پولیو کے حوالے سے ایک اہم جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں وزیراعظم کی فوکل پرسن برائے انسداد پولیو محترمہ عائشہ رضا فاروق سمیت اسپیشل سیکریٹری ہیلتھ، ایڈیشنل سیکریٹری ہیلتھ، نیشنل کوآرڈینیٹر پولیو، ڈبلیو ایچ او، یونیسیف اور دیگر اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی۔

اجلاس میں حالیہ قومی پولیو مہم کا جامع اور تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ نیشنل اور صوبائی کوآرڈینیٹرز نے انسداد پولیو کے اقدامات، پیش رفت اور درپیش چیلنجز سے آگاہ کیا۔ بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ حالیہ پولیو مہم کے دوران 4 کروڑ 50 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے گئے۔

اس موقع پر وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے زور دیتے ہوئے کہا کہ بچوں کو پولیو سے محفوظ رکھنا ہماری اجتماعی قومی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے والدین پر زور دیا کہ وہ خود پولیو ورکرز کو ڈھونڈیں اور اپنے بچوں کی حفاظت یقینی بنائیں۔

سید مصطفیٰ کمال نے کہا کہ یہ ملک ہمارا ہے، اور یہ بچے ہماری سب سے بڑی ذمہ داری ہیں۔ پولیو کا خاتمہ ہمارا قومی مقصد ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کینسر کا علاج ممکن ہے، لیکن پولیو اب بھی لاعلاج بیماری ہے۔ انہوں نے عوام سے منفی سوچ کو دل سے نکال کر اپنے بچوں کو اس مہلک مرض سے بچانے کی اپیل کی۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ وقت آ پہنچا ہے کہ ہم اپنی پالیسی میں خاطرخواہ اور نمایاں تبدیلی کریں۔ معاشرے کے تمام طبقات کو اس مہم کا حصہ بنانا ناگزیر ہے۔ دنیا کی نظریں ہم پر ہیں، اور ہمیں اس بیماری کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنا ہوگا۔

سید مصطفیٰ کمال نے اپنی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ پاکستان اور افغانستان دونوں ایک ہی وقت میں پولیو سے پاک ممالک بن جائیں-

اپنا تبصرہ بھیجیں