یونیسف کی سنگین وارننگ: غزہ میں پانی کی قلت انتہائی خطرناک سطح پر

غزہ (ایچ آراین ڈبلیو) یونیسف کی سنگین وارننگ: غزہ میں پانی کی قلت انتہائی خطرناک سطح پر پہنچ چکی ہے۔ 90 فیصد آبادی کو صاف پانی دستیاب نہیں، جس کی وجہ سے وبائی امراض پھیلنے کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔

نومبر 2024 میں 6 لاکھ افراد کو پینے کے پانی تک رسائی ملی تھی، لیکن اسرائیل نے دوبارہ پانی بند کر دیا، اور ایک بار پھر پیاس کا عذاب اہلِ غزہ پر مسلط کر دیا گیا۔ آج 18 لاکھ افراد، جن میں سے نصف سے زیادہ بچے ہیں، فوری طور پر پانی، نکاسیٔ آب اور طبی امداد کے محتاج ہیں۔ یہ صرف ایک انسانی بحران نہیں بلکہ باضابطہ نسل کشی ہے، جو دنیا کے سامنے جاری ہے اور عالمی برادری کی خاموشی اس جرم میں شریک ہونے کے مترادف ہے!

عاجـــــــل
غزہ پر 10 دن سے جاری سخت محاصرے اور امداد کی بندش کے تباہ کن اثرات سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔ مارکیٹوں میں بنیادی اشیائے خوردونوش اور راشن ختم ہونے کے قریب ہے۔

بےگھر افراد کے لیے مزید خیمے فراہم کرنا ممکن نہیں رہا، اور نئے پناہ گزین کیمپ بنانے کی صلاحیت ختم ہو چکی ہے۔ زخمیوں اور مریضوں کو دوائیں اور طبی سہولیات دستیاب نہیں، جس سے ان کی مشکلات کئی گنا بڑھ گئی ہیں۔ آنے والے دنوں میں زندگی مزید بدتر ہو سکتی ہے، اور بھوک و قحط کا خطرہ حقیقت بنتا جا رہا ہے۔

عرب اور مسلم ممالک سے مطالبہ ہے کہ وہ اپنے فیصلوں پر عملدرآمد کریں، غزہ کا محاصرہ ختم کرانے کے لیے دباؤ ڈالیں اور رفح بارڈر کھلوانے کے لیے فوری اقدامات کریں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں