پاکستان کی سیاست خاندانی بادشاہت یا جمہوریت ؟

آصف زرداری فرما رہے ہیں کہ “اگلا وزیرِ اعظم بلاول بھٹو ہوگا”! جیسے وزیراعظم کا انتخاب عوام نہیں، بلکہ سیاسی باپ دادا کی مرضی سے ہوتا ہے۔ یہ جمہوریت ہے یا کسی جاگیردارانہ وراثت کا جشن؟

نواز شریف صاحب تین بار وزیراعظم بنے، ہر بار ملک کو قرضوں، کرپشن اور اقربا پروری کا تحفہ دیا۔ اب بیٹی کو تیار کر رہے ہیں گویا وزیراعظم کا منصب کوئی خاندانی وراثت ہے۔

ادھر عمران خان بھی “نیا پاکستان” کے وعدے کے ساتھ آئے، لیکن 4 سال میں مہنگائی، بدانتظامی اور یوٹرن کی سیاست کا عملی مظاہرہ بنے رہے۔ آج وہ بھی اپنی گرفتاریوں اور سازشی بیانیے کے گرد سیاست گھما رہے ہیں، عوامی مسائل کہیں پیچھے رہ گئے۔

سوال یہ ہے:
پاکستان کے 24 کروڑ عوام کب تک ان تین خاندانوں کی ذاتی جنگوں، جھوٹے وعدوں اور عوام دشمن پالیسیوں کا ایندھن بنتے رہیں گے؟ کیا ہمارے ووٹ کا مطلب صرف ان کے بچوں کی تاجپوشی رہ گیا ہے؟

وقت آ گیا ہے کہ عوام جاگیں، ان سیاسی خاندانوں کے تسلط کو چیلنج کریں اور ایک حقیقی اسلامی نظام کی طرف تاکہ انصاف کی فراہمی یقینی ہو-

اپنا تبصرہ بھیجیں