**اسلام آباد — (ایچ آراین ڈبلیو)**26 نومبر احتجاج سے متعلق مقدمے میں انسداد دہشت گردی عدالت اسلام آباد نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی، پاکستان تحریک انصاف کے رہنما جنید اکبر اور دیگر ملزمان کے دوبارہ وارنٹ گرفتاری جاری کردیے۔
انسداد دہشت گردی عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نے کیس کی سماعت کی۔ دورانِ سماعت عدالت کو بتایا گیا کہ پولیس کی جانب سے مقدمے کا چالان تاحال عدالت میں پیش نہیں کیا جاسکا۔
چالان پیش نہ کیے جانے پر عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے پولیس کو ہدایت کی کہ مقدمے کا چالان جلد از جلد عدالت میں جمع کرایا جائے۔
عدالت نے سماعت میں غیر حاضر ملزمان کے دوبارہ وارنٹ گرفتاری جاری کیے اور کیس کی مزید سماعت **9 اکتوبر** تک ملتوی کردی۔
مقدمہ اسلام آباد کے تھانہ مارگلہ میں 26 نومبر کے احتجاج سے متعلق درج کیا گیا تھا۔ اس کیس میں پی ٹی آئی کے متعدد رہنماؤں اور کارکنوں کو نامزد کیا گیا ہے۔ عدالتی کارروائی کے دوران ملزمان کی قانونی حیثیت اور مقدمے سے متعلق الزامات کا فیصلہ متعلقہ عدالتی کارروائی کے ذریعے ہونا ہے۔
## انسانی حقوق اور عوامی مفاد
عدالتی مقدمات میں ہر ملزم کو منصفانہ سماعت، قانونی نمائندگی اور قانون کے مطابق کارروائی کا حق حاصل ہے۔ وارنٹ گرفتاری جاری ہونا کسی شخص کے جرم ثابت ہونے کے مترادف نہیں ہوتا۔
احتجاج سے متعلق مقدمات میں بھی ریاستی اداروں اور سیاسی کارکنوں دونوں کے لیے ضروری ہے کہ قانون اور آئینی حقوق کی پابندی کی جائے، جبکہ عدالتوں کے سامنے مقدمات کی بروقت تفتیش اور چالان جمع کرانے سے انصاف کے عمل میں تاخیر سے بچا جاسکتا ہے۔
## HRNW Support Appeal
انسانی حقوق، عوامی مسائل اور مستند خبروں کی آزادانہ کوریج کے لیے HRNW کی معاونت کریں۔
[HRNW Support Appeal](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)
## Disclaimer
یہ خبر عدالتی کارروائی اور دستیاب میڈیا رپورٹس کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ مقدمے میں عائد الزامات کو حتمی طور پر ثابت شدہ حقائق نہیں سمجھا جائے اور ملزمان کو عدالت کے حتمی فیصلے تک قانون کے مطابق بے گناہ تصور کیا جاتا ہے۔


