**کراچی — (ایچ آراین ڈبلیو)**میر رضا علی کے اہلخانہ کے وکیل جبران ناصر ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ میر رضا کے قتل کے ذمہ دار عناصر کا تاحال تعین نہیں ہوسکا اور خاندان کی جانب سے جوڈیشل کمیشن کے سامنے تحقیقات سے متعلق متعدد سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
سندھ ہائیکورٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جبران ناصر نے کہا کہ اہلخانہ نے پولیس پر بہتان عائد نہیں کیا، تاہم تفتیش کے مختلف مراحل میں سامنے آنے والے معاملات پر سوالات موجود ہیں۔ ان کے مطابق کیس کے تفتیشی افسر سراج لاشاری اور سی پی ایل سی کے افسر کاشف کے بیانات کمیشن کے سامنے ریکارڈ ہونا تھے جبکہ سینئر پولیس افسران کو بھی سوالنامے بھیجے جانے تھے۔
جبران ناصر نے بتایا کہ جوڈیشل کمیشن نے اپنی مدت میں توسیع کے لیے چیف جسٹس کو آگاہ کیا تھا۔ ان کے مطابق تحقیقات کے دوران ایسے بعض افراد کے بیانات بھی ریکارڈ کیے گئے جن کے نام ابتدائی تفتیش میں سامنے نہیں آئے تھے۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ سندھ نے کمیشن کی مدت میں توسیع کی سمری منظور کرلی ہے، تاہم باضابطہ توسیع کے لیے سندھ کابینہ کی منظوری درکار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کمیشن کی تشکیل کی منظوری ایک روز میں حاصل کی گئی تھی، اسی طرح توسیع کا عمل بھی جلد مکمل کیا جاسکتا تھا۔
تازہ دستیاب اطلاعات کے مطابق سندھ کے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے جوڈیشل کمیشن کی مدت 15 اکتوبر تک بڑھانے کی درخواست منظور کرلی ہے، جبکہ باضابطہ نوٹیفکیشن کے لیے کابینہ کی منظوری درکار ہے۔ کمیشن نے باقی گواہوں کے بیانات مکمل کرنے اور رپورٹ کی تیاری کے لیے کارروائی 2 اکتوبر تک ملتوی کردی ہے۔
### تفتیش اور شواہد سے متعلق سوالات
جبران ناصر نے کہا کہ اعلیٰ پولیس افسران سے مختلف سوالات کے جوابات طلب کیے جائیں گے اور نامکمل جوابات کی صورت میں مزید وضاحت طلب کی جائے گی۔ ان کے مطابق تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ ایس ایس پی سمیع اللہ سومرو کمیشن کے سامنے پیش ہوچکے ہیں۔
انہوں نے سی سی ٹی وی فوٹیج سے متعلق بھی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ جائے وقوعہ کے اطراف موجود کیمروں کی مکمل ریکارڈنگ محفوظ اور جانچ کی گئی یا نہیں، اس معاملے کی وضاحت ضروری ہے۔ دستیاب رپورٹس کے مطابق کمیشن نے بھی جائے وقوعہ کے قریب موجود سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج کے حصول اور تفتیش پر سوالات اٹھائے ہیں۔
جبران ناصر نے میڈیکل شواہد کا حوالہ دیتے ہوئے سپر میڈیکل بورڈ کی تشکیل پر بھی سوالات اٹھائے اور کہا کہ اگر کمیشن کو موت کی وجوہات اور طبی شواہد کا جائزہ لینا ہے تو اس عمل کو بھی کمیشن کی تحقیقات کے دائرہ کار میں شفاف انداز میں دیکھا جانا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ میر رضا کے قتل کے معاملے میں سینئر پولیس افسران کو کمیشن کے سامنے پیش ہونا چاہیے تاکہ تحقیقات سے متعلق سوالات کے براہِ راست جوابات حاصل کیے جاسکیں۔
دوسری جانب دستیاب رپورٹس کے مطابق جوڈیشل کمیشن نے ابتدائی تفتیش، میڈیکل معائنے، میڈیکل بورڈز، سی سی ٹی وی فوٹیج اور شواہد کے انتظام سے متعلق متعدد سوالات اٹھائے ہیں۔ کمیشن کی کارروائی ابھی مکمل نہیں ہوئی اور حتمی رپورٹ سامنے آنا باقی ہے۔
## انسانی حقوق اور عوامی مفاد
میر رضا کی موت کے معاملے میں متاثرہ خاندان کو شفاف، غیر جانب دار اور مؤثر تحقیقات اور انصاف تک رسائی کا حق حاصل ہے۔ کسی بھی تفتیش میں شواہد کا تحفظ، سی سی ٹی وی فوٹیج کی مکمل جانچ، طبی ریکارڈ کی درستگی اور تمام متعلقہ افراد کے بیانات کی غیر جانب دارانہ ریکارڈنگ بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔
ساتھ ہی کسی فرد یا ادارے پر جرم یا شواہد چھپانے کا حتمی الزام عدالتی یا تحقیقاتی نتیجے کے بغیر ثابت شدہ حقیقت کے طور پر پیش نہیں کیا جانا چاہیے۔ جوڈیشل کمیشن کی حتمی رپورٹ اور مزید قانونی کارروائی سے کیس کے حقائق کے بارے میں زیادہ واضح صورت سامنے آسکتی ہے۔
## HRNW Support Appeal
انسانی حقوق، عوامی مسائل اور مستند خبروں کی آزادانہ کوریج کے لیے HRNW کی معاونت کریں۔
[HRNW Support Appeal](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)
## Disclaimer
اس خبر میں جبران ناصر اور میر رضا کے اہلخانہ کی جانب سے بیان کیے گئے مؤقف اور سوالات کو منسوب کرکے پیش کیا گیا ہے۔ کسی پولیس افسر، طبی ماہر یا دوسرے فرد کے خلاف لگائے گئے الزامات کو ثابت شدہ حقیقت نہیں سمجھا جائے۔ جوڈیشل کمیشن کی تحقیقات جاری ہیں اور حتمی حقائق و ذمہ داری کا تعین متعلقہ قانونی و تحقیقاتی عمل کے بعد ہوگا۔


