96

خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے تمام قانونی تقاضے پورے ہیں، کسی بھی وقت فیصلہ ہوسکتا ہے: امیر مقام

**پشاور — (ایچ آراین ڈبلیو)**وفاقی وزیر امور کشمیر و گلگت بلتستان اور مسلم لیگ ن خیبر پختونخوا کے صدر امیر مقام نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے لیے تمام قانونی تقاضے پورے ہیں اور اس معاملے پر مشاورت جاری ہے، جبکہ کسی بھی وقت فیصلہ ہوسکتا ہے۔

پشاور پریس کلب میں صوبائی قیادت کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے امیر مقام نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورتحال اور صوبائی حکومت کی ترجیحات کے باعث گورنر راج ایک آئینی و قانونی آپشن ہے۔

انہوں نے کہا کہ صوبے کے عوام طویل عرصے سے دہشت گردی کا سامنا کر رہے ہیں، تاہم ان کے بقول صوبائی حکومت کی توجہ عوامی مسائل کے بجائے سیاسی سرگرمیوں پر مرکوز ہے۔

امیر مقام نے کہا کہ اگر خیبر پختونخوا میں گورنر راج نافذ کیا جاتا ہے تو گورنر فیصل کریم کنڈی ہی اس نظام کی قیادت کریں گے۔ انہوں نے فیصل کریم کنڈی کو ایک نفیس شخص قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہیں عہدے سے ہٹانے سے متعلق کوئی بات نہیں ہوئی اور وہ اپنا کام کررہے ہیں۔

وفاقی وزیر نے صوبائی حکومت پر الزام عائد کیا کہ سرکاری وسائل اور ٹیکسوں کی رقم سیاسی جلسوں اور سرگرمیوں پر خرچ کی جارہی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ لانگ مارچ اور کارکنوں کے نام پر اربوں روپے چندے کی صورت میں جمع کیے جارہے ہیں، تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق فراہم نہیں کی گئی۔

امیر مقام نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ لانگ مارچ کے بجائے انہیں قانونی معاملات کا سامنا کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق 27 ستمبر کے احتجاج کے لیے مطلوبہ تیاری مکمل نہ ہوسکی اور اب 4 اکتوبر کی تاریخ دی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ وفاق کسی ایک فرد کی رہائی کے معاملے پر مذاکرات نہیں کرے گا، تاہم دیگر معاملات پر بات چیت کے لیے تیار ہے۔ ان کے مطابق کسی فرد کی قسمت کا فیصلہ عدالت کرے گی۔

امیر مقام نے صوبائی حکومت کی پولیس پالیسی، افغانستان اور طالبان سے متعلق مؤقف اور دیگر معاملات پر بھی تنقید کی اور کہا کہ گورنر راج کے معاملے پر مشاورت جاری ہے۔

## انسانی حقوق اور عوامی مفاد

گورنر راج ایک آئینی و قانونی اقدام ہے، اس لیے اس کے نفاذ سے متعلق کسی بھی فیصلے میں آئین، متعلقہ قانونی طریقہ کار اور عوامی نمائندگی کے اصولوں کی مکمل پاسداری ضروری ہے۔ خیبر پختونخوا کے شہریوں کے امن، جان و مال، سیاسی اظہار، پرامن اجتماع اور نقل و حرکت کے حقوق کا تحفظ بھی ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے۔

سیاسی جماعتوں کی جانب سے ایک دوسرے پر عائد کیے جانے والے الزامات کی شفاف جانچ اور سرکاری وسائل کے استعمال سے متعلق دعوؤں کی دستاویزی وضاحت عوامی اعتماد کے لیے اہم ہے۔ دہشت گردی سے متاثرہ صوبے میں امن و امان کے ساتھ ساتھ شہریوں کے آئینی حقوق کا تحفظ بھی بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔

## HRNW Support Appeal

انسانی حقوق، عوامی مسائل اور مستند خبروں کی آزادانہ کوریج کے لیے HRNW کی معاونت کریں۔

[HRNW Support Appeal](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)

## Disclaimer

اس خبر میں امیر مقام کی پریس کانفرنس کے دوران بیان کیے گئے سیاسی مؤقف، الزامات اور دعوے ان سے منسوب کرکے بیان کیے گئے ہیں۔ ان الزامات کی آزادانہ تصدیق اس خبر کا حصہ نہیں۔ گورنر راج سے متعلق کسی بھی حتمی اقدام کی قانونی حیثیت متعلقہ آئینی و قانونی طریقہ کار اور سرکاری فیصلے سے متعین ہوگی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں