38

روزگار کی تلاش میں پاکستانی نوجوانوں کا بیرونِ ملک رخ برقرار

**اسلام آباد (ایچ آراین ڈبلیو)** — بہتر روزگار اور معاشی مواقع کی تلاش میں پاکستانی افرادی قوت کے بیرونِ ملک جانے کا رجحان بدستور برقرار ہے۔ پاکستان اکنامک سروے 2024-25 کے مطابق **2024 میں 7 لاکھ 55 ہزار 660 پاکستانی ورکرز** بیرونِ ملک روزگار کے لیے رجسٹر ہوئے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق بیرونِ ملک جانے والے کارکنوں میں بڑی تعداد ہنرمند اور غیر ہنرمند افرادی قوت پر مشتمل تھی۔ 2024 کے دوران **3 لاکھ 66 ہزار 92 غیر ہنرمند، 2 لاکھ 55 ہزار 706 ہنرمند اور 56 ہزار 562 نیم ہنرمند** پاکستانی ورکرز بیرونِ ملک روزگار کے لیے رجسٹر ہوئے، جبکہ اعلیٰ تعلیم یافتہ اور انتہائی ہنرمند افراد کی تعداد بھی نمایاں رہی۔

صوبائی لحاظ سے **پنجاب سے 4 لاکھ 4 ہزار 345**، خیبر پختونخوا سے **1 لاکھ 87 ہزار 103** اور سندھ سے **60 ہزار 424** ورکرز بیرونِ ملک روزگار کے لیے رجسٹر ہوئے۔

یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ پاکستانی شہری بہتر آمدنی اور روزگار کے مواقع کے لیے بیرونِ ملک کا رخ کر رہے ہیں۔ اس عمل سے ملک کو ترسیلاتِ زر کی صورت میں معاشی فائدہ حاصل ہوتا ہے، تاہم دوسری جانب ہنرمند اور نوجوان افرادی قوت کے بیرونِ ملک منتقل ہونے سے ملکی لیبر مارکیٹ پر بھی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

حکومت پاکستان نے بیرونِ ملک روزگار کے مواقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے افرادی قوت کی **مہارت، تربیت اور سرٹیفکیشن** کو اہم ترجیح قرار دیا ہے، جبکہ متعلقہ ادارے محفوظ اور منظم ہجرت کے نظام کو مزید بہتر بنانے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔

## Human Angle

روزگار کے لیے بیرونِ ملک جانے والے پاکستانی خاندانوں کے لیے بہتر آمدنی اور معاشی استحکام کا ذریعہ بن سکتے ہیں، جبکہ ترسیلاتِ زر ملکی معیشت میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ تاہم نوجوان اور ہنرمند افرادی قوت کے مسلسل بیرونِ ملک منتقل ہونے سے مقامی سطح پر روزگار، مہارتوں اور انسانی وسائل کی دستیابی بھی ایک اہم پالیسی مسئلہ بن جاتی ہے۔

## HRNW Support Appeal

Human Rights News Worldwide (HRNW) انسانی حقوق، شہری آزادیوں، انصاف اور انسانی وقار کے فروغ کے لیے کام کرتا ہے۔ آپ کا تعاون HRNW کو عوامی آگاہی اور انسانی حقوق کے مشن کو دنیا بھر میں جاری رکھنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔

**اہم نوٹ / ڈسکلیمر:** یہ رپورٹ پاکستان اکنامک سروے 2024-25 اور دستیاب سرکاری اعداد و شمار کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ مختلف ادوار کے اعداد و شمار کو براہِ راست ایک دوسرے کے ساتھ موازنہ کرتے وقت متعلقہ مدت اور رجسٹریشن کے طریقہ کار کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں