**ریاض (ایچ آراین ڈبلیو)** — مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے میں شامل **پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ** کے چیف آف ڈیفنس فورسز اور چیفس آف جنرل اسٹاف کا اہم اجلاس ریاض میں ہوا، جس میں تینوں ممالک نے معاہدے کے تحت اپنے دفاعی وعدوں کو فوری طور پر مؤثر فوجی تعاون میں تبدیل کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔
اجلاس میں سعودی عرب کو درپیش سکیورٹی صورتحال اور خطرات کا جائزہ لیا گیا۔ شرکاء نے **مکہ مکرمہ اور سعودی عرب کے شہری و اقتصادی انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے والے حملوں** پر شدید تشویش کا اظہار کیا اور سعودی مسلح افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیت اور چوکس رہنے کو سراہا۔
تینوں ممالک کے عسکری حکام نے دفاعی تعاون کو مزید آگے بڑھانے، **انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے، فوجی رابطہ کاری اور دفاعی صلاحیتوں کے باہمی انضمام** کے امکانات پر بھی تبادلہ خیال کیا، تاکہ اجتماعی دفاع اور دفاعی روک تھام کی صلاحیت کو مضبوط بنایا جا سکے۔
شرکاء نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان دیرینہ تعلقات اور باہمی اعتماد کو بھی اجاگر کیا۔ اجلاس میں اجتماعی دفاع کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے مشترکہ عزم کا اظہار کیا گیا۔
مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ **7 اگست 2026** کو پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے دستخط کیا تھا، جس کا مقصد تینوں ممالک کے درمیان اجتماعی سلامتی اور دفاعی تعاون کو مزید مضبوط بنانا ہے۔ معاہدے کے مطابق کسی ایک فریق پر مسلح حملے کو تینوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
## Human Angle
اجتماعی دفاعی تعاون کا مقصد رکن ممالک کی سلامتی اور دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانا ہے۔ ایسے علاقائی معاہدوں میں انٹیلی جنس تعاون، رابطہ کاری اور مشترکہ دفاعی صلاحیتوں میں اضافہ خطے میں شہریوں اور اہم تنصیبات کے تحفظ کے لیے اہمیت رکھتا ہے۔
## HRNW Support Appeal
Human Rights News Worldwide (HRNW) انسانی حقوق، شہری آزادیوں، انصاف اور انسانی وقار کے فروغ کے لیے کام کرتا ہے۔ آپ کا تعاون HRNW کو عوامی آگاہی اور انسانی حقوق کے مشن کو دنیا بھر میں جاری رکھنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔
**اہم نوٹ / ڈسکلیمر:** یہ رپورٹ ISPR اور سرکاری ذرائع سے جاری کردہ معلومات کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ خبر میں بیان کردہ سکیورٹی اور دفاعی امور متعلقہ حکام کے سرکاری بیانات کے مطابق پیش کیے گئے ہیں۔


