35

نقیب اللہ قتل کیس: عدم شواہد پر مزید 7 ملزمان بری

**کراچی (ایچ آراین ڈبلیو)** — انسداد دہشت گردی عدالت کراچی نے نقیب اللہ قتل کیس میں عدم شواہد کی بنیاد پر مزید **7 ملزمان کو بری** کر دیا۔

نقیب اللہ قتل کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے **شعیب شوٹر، امان اللہ مروت، گدا حسین، صداقت حسین، ریاض احمد، راجا شمیم اور محسن عباس** کو عدم شواہد کی بنیاد پر بری کرنے کا حکم دیا۔

ملزمان کے وکیل کے مطابق گرفتار پولیس اہلکاروں کے خلاف کسی گواہ نے یہ بیان نہیں دیا کہ پولیس مقابلہ جعلی تھا۔

سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ سابق ایس ایس پی ملیر **راؤ انوار** سمیت 18 پولیس افسران و اہلکار پہلے ہی بری کیے جا چکے ہیں، جبکہ سابق ایس ایچ او امان اللہ مروت سمیت 7 پولیس افسران و اہلکار مفرور تھے۔ عدالت کے فیصلے کے بعد ان ساتوں مفرور ملزمان نے عدالت میں سرینڈر کیا، جس کے بعد کیس میں ان کے خلاف کارروائی آگے بڑھی۔

یاد رہے کہ **نقیب اللہ محسود کو جنوری 2018 میں ایک مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک کیا گیا تھا۔** مقدمے میں مجموعی طور پر 25 ملزمان نامزد کیے گئے تھے، جنہیں اب عدالت کی جانب سے بری کیا جا چکا ہے۔

### انسانی حقوق کا پہلو

نقیب اللہ محسود کیس نے ماورائے عدالت ہلاکتوں، پولیس اختیارات کے استعمال، شفاف تفتیش اور شہریوں کے حقِ زندگی سے متعلق اہم سوالات کو قومی سطح پر اجاگر کیا تھا۔ انسانی حقوق کے اصولوں کے تحت ہر شہری کے حقِ زندگی اور منصفانہ قانونی عمل کا تحفظ ضروری ہے، جبکہ فوجداری مقدمات میں جرم کا فیصلہ قابلِ قبول شواہد اور قانونی معیار کے مطابق ہونا چاہیے۔

### HRNW Support Appeal

انسانی حقوق، انصاف، قانون کی حکمرانی اور عوامی مفاد سے متعلق آزادانہ صحافت کے فروغ کے لیے **ایچ آراین ڈبلیو** کی معاونت کریں:

[Support HRNW](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)

**Disclaimer:** یہ خبر عدالتی کارروائی اور فراہم کردہ معلومات کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے۔ عدالت کی جانب سے ملزمان کی بریت عدم شواہد کی بنیاد پر ہوئی ہے، جبکہ مقدمے کے مختلف مراحل میں فریقین کی جانب سے مختلف مؤقف پیش کیے گئے تھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں