**پشاور (ایچ آراین ڈبلیو)**وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ حکمران ان کی جماعت اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان بات چیت یا معاملات طے ہونے نہیں دیتے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ملک میں ایک ہی شخص کی پالیسی چل رہی ہے جس کے نمائندے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی ہیں۔
سینئر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا کہ سیاسی ذمہ داری جنید اکبر کی جبکہ حکومتی ذمہ داری ان کے پاس ہے، تاہم وہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ہدایت پر سیاسی تحریک چلا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف نے اسلام آباد مارچ کی تیاری مکمل کرلی ہے۔ تاہم دستیاب رپورٹس کے مطابق پارٹی کی سیاسی کمیٹی نے 27 ستمبر کو ہونے والا مارچ مؤخر کرکے 4 اکتوبر کو پشاور سے شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
سہیل آفریدی نے خیبرپختونخوا کی آمدنی 64 ارب روپے سے بڑھا کر 150 ارب روپے تک پہنچانے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی ریونیو کو مزید بڑھا کر 200 ارب روپے تک لے جانے کا ہدف ہے۔
وزیراعلیٰ نے پشاور میں ترقیاتی منصوبوں، پانی کی سطح بلند کرنے کے اقدامات اور ایک ہزار بستروں پر مشتمل بے نظیر اسپتال کے قیام کا بھی ذکر کیا۔ ان کے مطابق ملاکنڈ میں بھی ایک ہزار بستروں کا اسپتال تعمیر کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایشیائی ترقیاتی بینک اور عالمی بینک کے منصوبوں میں پراجیکٹ ڈائریکٹرز کی تقرری میں پسند و ناپسند سے گریز کیا گیا اور اس حوالے سے مختلف دباؤ مسترد کیے گئے۔ ان کے مطابق عالمی اداروں سے متعلق تقریباً 60 ارب روپے کے منصوبے زیرعمل ہیں۔
سہیل آفریدی نے سکیورٹی صورتحال، افغانستان کے ساتھ تعلقات اور پاک افغان سرحد کی بندش پر بھی گفتگو کی۔ ان کا کہنا تھا کہ سرحد کی بندش سے صوبے کو رواں سال تقریباً 7 ارب روپے کا نقصان ہوا، جبکہ سالانہ تقریباً 10 ارب روپے آمدن متوقع ہوتی ہے۔ انہوں نے افغانستان کے ساتھ بہتر تعلقات اور بات چیت کی ضرورت پر زور دیا۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے ’’گڈ‘‘ اور ’’بیڈ‘‘ کی تفریق ختم ہونی چاہیے اور عوام کا اعتماد بحال کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے صوبائی ایکشن پلان کا بھی ذکر کیا اور افغانستان کے ساتھ قومی جرگے کے ذریعے بات چیت کی تجویز دی۔
سیاسی صورتحال پر بات کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا کہ ان کی جماعت گزشتہ کئی ماہ سے مختلف اداروں سے رجوع کر رہی ہے لیکن شنوائی نہ ہونے کے باعث احتجاج کا راستہ اختیار کیا گیا۔ انہوں نے بانی پی ٹی آئی سے ملاقاتوں کے عدالتی احکامات پر عملدرآمد نہ ہونے کا بھی دعویٰ کیا۔
انہوں نے وفاقی حکومت کے بعض بیانات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت کو مختلف الزامات کا سامنا ہے، تاہم ان کے مطابق تحریک انصاف ایک سیاسی جماعت ہے اور وہ مسلح گروہ نہیں۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ مذاکرات سے انکار نہیں کیا گیا اور سیاسی قوتوں کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار ہیں۔ ان کے مطابق مارچ کی حکمت عملی کے تحت تاریخ میں تبدیلی کی گئی اور 4 اکتوبر کے لیے تیاری مکمل ہے۔ دستیاب رپورٹس بھی تصدیق کرتی ہیں کہ تحریک انصاف نے 27 ستمبر کا مارچ مؤخر کرکے 4 اکتوبر مقرر کیا ہے۔
وزیراعلیٰ نے گورنر راج یا اپنی نااہلی کی صورت میں ممکنہ سیاسی ردعمل کے حوالے سے بھی سخت مؤقف اختیار کیا اور کہا کہ اگر وہ وزیراعلیٰ نہ رہے تو متبادل کا فیصلہ عمران خان کریں گے۔
### انسانی حقوق اور عوامی مفاد
سیاسی احتجاج، اجتماع اور اظہارِ رائے شہری و آئینی حقوق سے متعلق اہم معاملات ہیں، جبکہ ریاستی اداروں کی ذمہ داری میں امن و امان، شہریوں کی جان و مال اور معمولاتِ زندگی کا تحفظ بھی شامل ہے۔ ایسے سیاسی تنازعات میں تمام فریقین کے مؤقف کو قانون اور آئینی حقوق کے دائرے میں دیکھنا اور الزامات کو تصدیق شدہ حقائق سے الگ رکھنا عوامی مفاد میں ہے۔
### HRNW Support Appeal
**Human Rights News Worldwide (HRNW)** انسانی حقوق، شہری آزادیوں اور عوامی مفاد سے متعلق اہم معاملات کو ذمہ دارانہ انداز میں عوام تک پہنچانے کے لیے کام کرتا ہے۔ آزاد اور ذمہ دار صحافت کے فروغ کے لیے آپ کا تعاون اہم ہے۔
**HRNW کو سپورٹ کرنے کے لیے:**
https://www.hrnww.com/?page_id=1083
### Disclaimer
اس خبر میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے بیانات اور مختلف ذرائع سے سامنے آنے والی معلومات شامل ہیں۔ سیاسی شخصیات کی جانب سے عائد کیے گئے الزامات اور دعووں کو آزادانہ طور پر ثابت شدہ حقائق کے طور پر پیش نہیں کیا گیا۔ مارچ کی تاریخ سے متعلق تازہ دستیاب رپورٹس کے مطابق 27 ستمبر کا مارچ مؤخر کرکے 4 اکتوبر مقرر کیا گیا ہے۔
**اصل خبر:**
https://www.express.pk/story/2834825/the-rulers-do-not-allow-an-understanding-to-be-reached-between-us-and-the-establishment-sohail-afridi-2834825/


