**اسلام آباد (ایچ آراین ڈبلیو)**وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ وفاقی دارالحکومت میں احتجاج اور دھرنوں کے معاملے پر سخت پالیسی اپنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور کسی بھی سیاسی گروہ کو احتجاج کے لیے اسلام آباد میں داخل نہ ہونے دینے کی پالیسی اختیار کی جائے گی۔
رانا ثنا اللہ کے مطابق اسلام آباد میں احتجاج کے معاملے کو مستقل طور پر ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے تحریک انصاف کے حوالے سے کہا کہ اگر طاقت کا استعمال کیا گیا تو 9 مئی کے بعد ملنے والی سہولتیں ختم کردی جائیں گی۔
دوسری جانب وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے تحریک انصاف کی جانب سے لانگ مارچ مؤخر کیے جانے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر پارٹی میں ہمت ہے تو لانگ مارچ کیا جائے۔ انہوں نے خیبر پختونخوا حکومت اور تحریک انصاف پر کالعدم ٹی ٹی پی اور افغان طالبان کی مبینہ سہولت کاری کے الزامات بھی عائد کیے۔
ان الزامات کے حوالے سے یہ واضح رہے کہ یہ وفاقی وزیر کے سیاسی بیانات اور الزامات ہیں، جنہیں آزادانہ طور پر ثابت شدہ حقیقت کے طور پر پیش نہیں کیا جا رہا۔
دستیاب رپورٹس کے مطابق تحریک انصاف نے 27 ستمبر کو ہونے والا لانگ مارچ مؤخر کرکے 4 اکتوبر کو کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے احتجاج کو پرامن قرار دیتے ہوئے کہا کہ سیاسی جدوجہد اور پرامن احتجاج ان کا حق ہے۔
رپورٹس کے مطابق لانگ مارچ کے تناظر میں اسلام آباد کے مختلف داخلی راستوں پر سکیورٹی اور انتظامی اقدامات بھی کیے گئے ہیں، جبکہ حکومت کی جانب سے احتجاج سے متعلق انتظامی، قانونی اور سکیورٹی حکمت عملی کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
### انسانی حقوق اور عوامی مفاد
پرامن اجتماع اور اظہارِ رائے شہری و آئینی حقوق سے متعلق اہم معاملات ہیں، جبکہ ریاست کی ذمہ داری میں عوامی امن، شہریوں کی آمدورفت اور املاک کے تحفظ کو یقینی بنانا بھی شامل ہے۔ احتجاج کے حوالے سے کسی بھی حکومتی اقدام میں قانون، شہری آزادیوں اور عوامی تحفظ کے درمیان توازن اہمیت رکھتا ہے۔
### HRNW Support Appeal
**Human Rights News Worldwide (HRNW)** انسانی حقوق، شہری آزادیوں اور عوامی مفاد سے متعلق اہم معاملات کو ذمہ دارانہ انداز میں عوام تک پہنچانے کے لیے کام کرتا ہے۔ آزاد صحافت اور انسانی حقوق کی رپورٹنگ کے فروغ کے لیے آپ کا تعاون اہم ہے۔
**HRNW کو سپورٹ کرنے کے لیے:**
https://www.hrnww.com/?page_id=1083
### Disclaimer
اس خبر میں سیاسی رہنماؤں اور حکومتی شخصیات کے بیانات کو ان سے منسوب کرکے پیش کیا گیا ہے۔ کسی فرد، جماعت یا حکومت کی جانب سے عائد کیے گئے الزامات کو آزادانہ طور پر ثابت شدہ حقیقت قرار نہیں دیا گیا۔ احتجاج، لانگ مارچ اور حکومتی اقدامات سے متعلق صورتحال تبدیل ہونے کی صورت میں مزید معلومات سامنے آ سکتی ہیں۔
**اصل خبر:**
https://www.express.pk/story/2834756/a-permanent-ban-on-protests-and-sit-ins-in-islamabad-2834756/


