**پشاور (ایچ آراین ڈبلیو)** — گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے دعویٰ کیا ہے کہ صوبے میں گورنر راج کے نفاذ کے حوالے سے مشاورت ہوئی ہے اور موجودہ حالات میں اس امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ آئین میں گورنر راج کی گنجائش موجود ہے اور ماضی میں بھی صوبوں میں اس کا نفاذ ہوتا رہا ہے۔
گورنر خیبرپختونخوا نے مزید دعویٰ کیا کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) آج یا کل اسلام آباد کے لیے اعلان کردہ لانگ مارچ ختم کرنے کا اعلان کر دے گی۔ ان کے مطابق لانگ مارچ کے حوالے سے کوئی واضح تیاری نظر نہیں آ رہی جبکہ پی ٹی آئی رہنماؤں کی جانب سے گرفتاریوں کی باتیں کی جا رہی ہیں۔
فیصل کریم کنڈی کے مطابق خیبرپختونخوا میں امن و امان، لاقانونیت اور دہشت گردی کی صورتحال کو بھی گورنر راج کے ممکنہ نفاذ کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔
## انسانی حقوق اور عوامی مفاد
گورنر راج ایک آئینی اقدام ہے، اس لیے اس سے متعلق کسی بھی فیصلے میں آئینی تقاضوں، قانونی طریقہ کار، صوبائی اداروں کے کردار اور شہریوں کے بنیادی حقوق کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ سیاسی اختلافات اور امن و امان سے متعلق معاملات میں آئین و قانون کے مطابق شفاف اور قانونی عمل عوامی اعتماد کے لیے اہم ہے۔
## HRNW Support Appeal
ہیومن رائٹس نیوز ورلڈ وائیڈ (HRNW) انسانی حقوق، قانون کی حکمرانی اور عوامی مفاد سے متعلق آگاہی کے لیے کام کرتا ہے۔ آزاد صحافت اور انسانی حقوق کی رپورٹنگ کو جاری رکھنے کے لیے آپ ہماری معاونت کر سکتے ہیں۔
**HRNW Support:**
https://www.hrnww.com/?page_id=1083
## Disclaimer
یہ خبر گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کے میڈیا سے گفتگو کے دوران دیے گئے بیان اور دعووں کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ خبر میں بیان کردہ سیاسی مؤقف متعلقہ شخصیت سے منسوب ہے اور اسے HRNW کا ذاتی یا ادارتی مؤقف تصور نہ کیا جائے۔ گورنر راج کے نفاذ سے متعلق کوئی حتمی فیصلہ متعلقہ آئینی و قانونی طریقہ کار کے تحت ہی مؤثر ہوگا۔
**اصل خبر/ماخذ:** دستیاب فراہم کردہ معلومات


