**کراچی — (ایچ آراین ڈبلیو)**اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) کے سینئر اہلکار ڈاکٹر مشتاق احمد عمرانی نے کہا ہے کہ دنیا بھر میں روایتی منشیات کے مقابلے میں مصنوعی منشیات کے استعمال کا رجحان بڑھ رہا ہے، جس کے باعث منشیات استعمال کرنے والے افراد کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔
ہمدرد یونیورسٹی کراچی میں منعقدہ **”نشے کے خلاف آگہی نشست”** سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر مشتاق احمد عمرانی نے کہا کہ دنیا بھر میں 30 کروڑ سے زائد افراد منشیات استعمال کرتے ہیں، جبکہ ان میں بڑی تعداد 18 سے 35 سال کی عمر کے افراد کی ہے۔
نشست میں طلبہ و طالبات، اساتذہ اور یونیورسٹی اسٹاف نے شرکت کی۔ ہمدرد یونیورسٹی کے ڈائریکٹر ایڈمنسٹریشن کرنل (ر) طاہر مصطفیٰ نے خطبۂ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے اے این ایف کے وفد کا خیرمقدم کیا اور یونیورسٹی میں منشیات کے خلاف آگہی پروگرام کے انعقاد پر تعاون کا شکریہ ادا کیا۔
ڈاکٹر مشتاق احمد عمرانی نے پاکستان کے جغرافیائی محلِ وقوع کو منشیات کی اسمگلنگ کے حوالے سے حساس قرار دیتے ہوئے کہا کہ منشیات فروش عناصر نوجوانوں کو اپنے ہدف کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق سوشل میڈیا پر مختلف نوعیت کی مہمات کے ذریعے نوجوانوں کو منشیات کی جانب راغب کرنے کی کوششیں کی جاتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مختلف معاشرتی طبقات، خواتین اور نوجوان بھی منشیات کے پھیلاؤ سے متاثر ہو رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض مصنوعی منشیات مختلف رنگوں کی ٹافیوں، چاکلیٹ، انرجی ڈرنکس اور ادویات جیسی اشیا کی شکل میں بھی دستیاب ہونے کی اطلاعات ہیں، جس سے نوجوانوں کے لیے ان کی شناخت مشکل ہوسکتی ہے۔
اے این ایف اہلکار نے طلبہ کو منشیات کے مضر اثرات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ الکوحل کے علاوہ مختلف نشہ آور اور نفسیاتی اثرات رکھنے والی اشیا، بشمول بعض کلب ڈرگز، کینابس، کوکین اور دیگر مادے بھی صحت کے لیے سنگین خطرات کا باعث بن سکتے ہیں۔
انہوں نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ منشیات کے خلاف آگہی اور روک تھام کی کوششوں میں اپنا کردار ادا کریں۔ انہوں نے مشکوک یا غیر معمولی سرگرمیوں کی اطلاع **114** پر دینے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اطلاع دینے والے کی شناخت صیغۂ راز میں رکھنے کا انتظام موجود ہے۔
## انسانی حقوق اور عوامی مفاد
منشیات کا استعمال نوجوانوں، خاندانوں اور معاشرے کی صحت و سلامتی پر سنگین اثرات مرتب کرسکتا ہے۔ تعلیمی اداروں میں آگہی پروگرام نوجوانوں کو منشیات کے خطرات، آن لائن ترغیبات اور مشکوک مصنوعات کی شناخت کے بارے میں معلومات فراہم کرنے میں معاون ہوسکتے ہیں۔
منشیات کے استعمال سے متاثرہ افراد کو صرف سزا کے بجائے علاج، بحالی اور نفسیاتی معاونت تک رسائی فراہم کرنا بھی عوامی صحت کے نقطۂ نظر سے اہم ہے۔ اسی طرح منشیات کی روک تھام کے لیے قابلِ اعتماد اعداد و شمار، سائنسی شواہد اور مؤثر عوامی آگہی ضروری ہے۔
## HRNW Support Appeal
انسانی حقوق، عوامی مسائل اور مستند خبروں کی آزادانہ کوریج کے لیے HRNW کی معاونت کریں۔
[HRNW Support Appeal](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)
## Disclaimer
اس خبر میں منشیات کے استعمال، متاثرہ افراد کی تعداد اور دیگر اعداد و شمار متعلقہ اے این ایف اہلکار کی جانب سے آگہی نشست کے دوران بیان کردہ معلومات کی بنیاد پر شامل کیے گئے ہیں۔ ان اعداد و شمار کی آزادانہ تصدیق اس خبر میں نہیں کی گئی۔ منشیات کے استعمال یا کسی مخصوص طبی اثر کے بارے میں حتمی رائے کے لیے مستند طبی اور سائنسی ذرائع سے رجوع کیا جانا چاہیے۔


