93

احسن آباد میں ڈاکٹر، اہلیہ اور تین بیٹیوں کی ہلاکت، تحقیقات جاری

**کراچی — (ایچ آراین ڈبلیو)**کراچی کے علاقے احسن آباد میں ایک رہائشی عمارت کے فلیٹ سے ڈاکٹر عمر، ان کی اہلیہ اور تین کمسن بیٹیوں کی لاشیں ملنے کے واقعے کی مختلف زاویوں سے تحقیقات جاری ہیں۔ پولیس نے واقعے کی حتمی وجہ جاننے کے لیے پوسٹ مارٹم کے بعد حاصل کیے گئے نمونے کیمیائی تجزیے کے لیے بھجوا دیے ہیں۔

تحقیقاتی ذرائع کے مطابق ڈاکٹر عمر احسن آباد کے ایک نجی اسپتال میں ملازمت کرتے تھے اور انہیں گردے کے کینسر کی تشخیص ہوئی تھی۔ ذرائع کے مطابق انہوں نے اگست میں ملازمت سے استعفیٰ دے دیا تھا اور اسپتال انتظامیہ کو بتایا تھا کہ وہ علاج کے لیے پنجاب جا رہے ہیں۔

پولیس کے مطابق فلیٹ کے مالک اور عمارت کے دیگر مکینوں کے بیانات بھی ریکارڈ کیے جا چکے ہیں۔ تحقیقاتی ذرائع کے مطابق ڈاکٹر عمر 14 ہزار روپے ماہانہ کرائے پر فلیٹ میں رہائش پذیر تھے اور ستمبر کا کرایہ ادا نہیں کیا گیا تھا۔

ذرائع کے مطابق ڈاکٹر عمر نے مکان مالک کو بتایا تھا کہ ان کی تنخواہ اور موبائل فون مبینہ طور پر ڈاکوؤں نے چھین لیے تھے، تاہم اس واقعے سے متعلق پولیس کو کوئی رپورٹ درج کرانے کا ریکارڈ سامنے نہیں آیا۔

تحقیقات کے مطابق ڈاکٹر عمر مالی مشکلات کا بھی سامنا کر رہے تھے اور انہوں نے گھر کی بعض اشیا فروخت کرنے کی کوشش کی تھی۔ تاہم مکینوں نے اشیا خریدنے کے بجائے مبینہ طور پر ان کی مالی مدد کی۔ پولیس ذرائع کے مطابق خاندان کے پاس ذاتی گاڑی یا موٹر سائیکل بھی نہیں تھی اور وہ آمدورفت کے لیے آن لائن ٹیکسی سروس استعمال کرتے تھے۔

پولیس کے مطابق ڈاکٹر عمر، ان کی اہلیہ اور تین بیٹیوں کی لاشیں 20 ستمبر کو فلیٹ سے برآمد ہوئی تھیں۔ ابتدائی پوسٹ مارٹم میں جسم پر بظاہر تشدد یا تیز دھار آلے کے زخموں کے شواہد نہیں ملے، تاہم موت کی حتمی وجہ کیمیائی تجزیے کی رپورٹ کے بعد ہی معلوم ہوگی۔

تحقیقاتی ذرائع کے مطابق ڈاکٹر عمر اور ان کی اہلیہ کے موبائل فون بھی جائے وقوعہ سے نہیں ملے۔ پولیس نے ڈاکٹر عمر کے موبائل فون کا کال ڈیٹا ریکارڈ حاصل کرلیا ہے، جس کے مطابق ان کے فون پر آخری کال 14 ستمبر کو تقریباً دوپہر ایک بجے موصول ہوئی تھی۔ ٹیکنیکل ٹیم کال ڈیٹا کا مزید جائزہ لے رہی ہے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی تحقیقات تمام ممکنہ پہلوؤں سے جاری ہیں اور حتمی نتیجہ شواہد، فرانزک معلومات اور کیمیائی تجزیے کی رپورٹ کی روشنی میں اخذ کیا جائے گا۔ سندھ پولیس نے بھی معاملے کی شفاف اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کی ہدایت کی ہے۔

## انسانی حقوق اور عوامی مفاد

ایک ہی خاندان کے پانچ افراد کی ہلاکت ایک انتہائی حساس معاملہ ہے۔ موت کی حتمی وجہ سامنے آنے تک کسی نتیجے یا مفروضے کو حتمی حقیقت کے طور پر پیش کرنے سے گریز ضروری ہے۔ شفاف فرانزک تحقیقات، شواہد کا تحفظ اور تمام متعلقہ افراد کے بیانات کی مکمل جانچ انصاف کے تقاضوں کے لیے اہم ہے۔

واقعے کے پس منظر میں بیماری، مالی مشکلات اور دیگر حالات کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، تاہم ان عوامل کو موت کی وجہ قرار دینا حتمی طبی اور قانونی نتائج سے پہلے مناسب نہیں ہوگا۔ متاثرہ خاندان کے لواحقین کی رازداری اور وقار کا بھی مکمل احترام کیا جانا چاہیے۔

## HRNW Support Appeal

انسانی حقوق، عوامی مسائل اور مستند خبروں کی آزادانہ کوریج کے لیے HRNW کی معاونت کریں۔

[HRNW Support Appeal](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)

## Disclaimer

یہ خبر پولیس اور تحقیقاتی ذرائع سے سامنے آنے والی معلومات اور دستیاب میڈیا رپورٹس کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ ڈاکٹر عمر، ان کی اہلیہ اور تین بیٹیوں کی موت کی حتمی وجہ ابھی کیمیائی تجزیے کی رپورٹ سے طے ہونا باقی ہے۔ کسی بھی ممکنہ وجہ یا محرک کو حتمی قرار نہیں دیا گیا۔ تحقیقات مکمل ہونے تک تمام تفصیلات کو ابتدائی معلومات سمجھا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں