**کراچی — (ایچ آراین ڈبلیو)**سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی سندھ کی تقسیم قبول نہیں کرے گی، جبکہ نئے صوبوں کے قیام یا صوبائی حدود میں تبدیلی سے متعلق معاملات آئینی طریقہ کار کے تحت طے ہونے چاہئیں۔
کراچی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ اسمبلی نئے صوبوں کی تشکیل اور سندھ کی تقسیم کے معاملے پر اپنی قرارداد کے ذریعے مؤقف واضح کرچکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹی وی چینلز کے سرویز سے آئینی معاملات تبدیل نہیں ہوتے اور نہ ہی کسی سروے کی بنیاد پر نئے صوبے قائم کیے جاسکتے ہیں۔
شرجیل میمن نے کہا کہ پاکستان کو لسانی بنیادوں پر تقسیم کی سیاست کی طرف دوبارہ نہیں لے جایا جاسکتا۔ انہوں نے ایم کیو ایم پر لسانیت کو ہوا دینے کے الزامات عائد کیے اور کہا کہ سندھ میں تمام زبانیں بولنے والے شہری برابر کے حقوق رکھتے ہیں۔
انہوں نے سندھ حکومت کی گزشتہ 18 سالہ کارکردگی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت اپنے دور میں ہونے والے اقدامات کا حساب دینے کے لیے تیار ہے۔ ان کے مطابق سندھ میں جامعات، کالجز، اسپتال، ایئر ایمبولینس سروس اور دیگر منصوبے قائم کیے گئے، جبکہ سائبر نائف سمیت بعض طبی سہولیات بھی مریضوں کو فراہم کی جارہی ہیں۔
سینئر وزیر نے تھرکول منصوبے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سندھ میں کوئلے کے ذخائر سے بجلی کی پیداوار اور دیگر معاشی سرگرمیوں کے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت عالمی سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے بھی اقدامات کررہی ہے اور چین کے ساتھ مختلف شعبوں میں تعاون جاری ہے۔
شرجیل میمن نے بارشوں اور سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کے لیے رہائشی منصوبوں کا بھی ذکر کیا اور دعویٰ کیا کہ سندھ حکومت متاثرہ خاندانوں کو گھر فراہم کررہی ہے۔
ایم کیو ایم پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کراچی میں ماضی کی ہڑتالوں، بدامنی اور تشدد کے واقعات سے متعلق متعدد الزامات عائد کیے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں صنعتوں کی منتقلی کی ایک وجہ ماضی کی بدامنی اور ہڑتالیں بھی رہی ہیں۔ ان الزامات کی آزادانہ تصدیق اس خبر میں شامل نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ سیاسی اور انتظامی اختلافات کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے اور دھرنوں یا تصادم سے شہری زندگی متاثر ہوتی ہے۔
شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ کی تقسیم کے معاملے پر پیپلز پارٹی اپنا مؤقف واضح کرچکی ہے اور سندھ اسمبلی بھی اس حوالے سے قرارداد منظور کرچکی ہے۔ ان کے مطابق صوبے کی حدود یا نئے صوبوں سے متعلق کسی بھی تبدیلی کے لیے آئینی عمل کی پابندی ضروری ہے۔
## انسانی حقوق اور عوامی مفاد
نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کی تشکیل ایک آئینی اور سیاسی معاملہ ہے جس میں شہریوں کی رائے، نمائندہ اداروں کا کردار اور آئینی طریقہ کار اہمیت رکھتے ہیں۔ مختلف سیاسی جماعتوں اور شہری گروہوں کو اپنے مؤقف کے اظہار کا حق حاصل ہے، تاہم سیاسی اختلافات کو پرامن اور آئینی طریقے سے آگے بڑھانا ضروری ہے۔
لسانی یا علاقائی اختلافات کے تناظر میں عوامی نمائندوں اور سیاسی جماعتوں کی ذمہ داری ہے کہ اختلافِ رائے کو نفرت یا امتیاز کے بجائے پُرامن سیاسی مکالمے کے ذریعے پیش کیا جائے اور تمام شہریوں کے مساوی حقوق کا احترام کیا جائے۔
## HRNW Support Appeal
انسانی حقوق، عوامی مسائل اور مستند خبروں کی آزادانہ کوریج کے لیے HRNW کی معاونت کریں۔
[HRNW Support Appeal](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)
## Disclaimer
اس خبر میں شرجیل انعام میمن کی پریس کانفرنس میں بیان کیے گئے سیاسی مؤقف، دعوے اور الزامات کو ان سے منسوب کرکے پیش کیا گیا ہے۔ دیگر سیاسی جماعتوں یا افراد سے متعلق عائد کیے گئے الزامات کو آزادانہ طور پر ثابت شدہ حقائق نہیں سمجھا جائے۔ نئے صوبوں، آئینی ترامیم اور صوبائی حدود سے متعلق کسی بھی حتمی تبدیلی کے لیے متعلقہ آئینی و قانونی عمل ہی معتبر ہوگا۔


