**کراچی — (ایچ آراین ڈبلیو)**متحدہ قومی موومنٹ پاکستان (ایم کیو ایم) کے سینئر رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا ہے کہ سندھ میں 6 انتظامی یونٹس قائم ہونے چاہئیں اور صوبے کے وسائل تمام علاقوں میں منصفانہ بنیادوں پر تقسیم کیے جائیں۔
کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے فاروق ستار نے کہا کہ کراچی، حیدرآباد، میرپورخاص، سکھر، لاڑکانہ اور دیگر علاقوں کو ترقی کے یکساں مواقع ملنے چاہئیں۔ ان کے مطابق سندھ کے وسائل پر تمام شہریوں اور علاقوں کا حق ہے اور انتظامی یونٹس کے قیام سے اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ عمرکوٹ، تھرپارکر، سکھر اور سندھ کے دیگر علاقوں میں بھی ترقیاتی کاموں اور بنیادی سہولیات کی فراہمی پر توجہ دی جانی چاہیے۔ فاروق ستار نے تجویز دی کہ انتظامی ڈھانچے میں تبدیلی کے معاملے پر عوامی رائے حاصل کرنے کے لیے شفاف ریفرنڈم بھی کرایا جاسکتا ہے۔
ایم کیو ایم رہنما نے کہا کہ نئے انتظامی یونٹس کا معاملہ کئی برس سے زیر بحث ہے اور عوام کو یہ حق حاصل ہونا چاہیے کہ وہ اپنی انتظامی ضروریات اور مستقبل کے نظام کے بارے میں رائے دیں۔
فاروق ستار نے کراچی کے بلدیاتی ملازمین کے ریٹائرمنٹ واجبات کا معاملہ بھی اٹھایا۔ ان کا کہنا تھا کہ 25 ٹاؤنز کے متعدد ریٹائرڈ ملازمین کو واجبات کی ادائیگی نہیں کی گئی، جبکہ ملازمین کی تنخواہوں سے کٹوتی کی گئی رقوم کے ایم سی کے اکاؤنٹس میں جمع ہوتی رہی ہیں۔
انہوں نے سندھ ہائیکورٹ کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ریٹائرڈ ملازمین کے واجبات کی ادائیگی کا معاملہ جلد حل کیا جائے اور عدالتی فیصلے پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔
فاروق ستار نے کہا کہ صوبائی یا وفاقی اداروں میں کام کرنے والے ملازمین کو ان کے جائز ریٹائرمنٹ اور دیگر ملازمت سے متعلق حقوق بروقت ملنے چاہئیں۔
انہوں نے کراچی کے میئر مرتضیٰ وہاب کے اختیارات سے متعلق بھی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ مقامی حکومتوں کو مؤثر اختیارات اور وسائل فراہم کیے جائیں تاکہ شہری مسائل کو نچلی سطح پر حل کیا جاسکے۔
فاروق ستار نے کہا کہ ایم کیو ایم نئے انتظامی یونٹس اور بااختیار بلدیاتی نظام کے مؤقف پر قائم ہے اور اس حوالے سے سیاسی جدوجہد جاری رکھے گی۔
## انسانی حقوق اور عوامی مفاد
انتظامی یونٹس، اختیارات کی تقسیم اور وسائل کی منصفانہ فراہمی براہِ راست شہریوں کو بنیادی سہولیات، مقامی حکومت اور عوامی خدمات تک رسائی سے متعلق معاملات ہیں۔ ایسے کسی بھی انتظامی فیصلے میں شفافیت، آئینی طریقہ کار، تمام متعلقہ علاقوں کی نمائندگی اور عوامی مشاورت کو اہمیت دینا ضروری ہے۔
اسی طرح سرکاری و بلدیاتی ملازمین کے ریٹائرمنٹ واجبات کی بروقت ادائیگی ان کے قانونی اور معاشی حقوق سے متعلق معاملہ ہے۔ متعلقہ اداروں کو عدالتی فیصلوں اور قابلِ اطلاق قوانین کے مطابق واجبات کی ادائیگی یقینی بنانی چاہیے۔
## HRNW Support Appeal
انسانی حقوق، عوامی مسائل اور مستند خبروں کی آزادانہ کوریج کے لیے HRNW کی معاونت کریں۔
[HRNW Support Appeal](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)
## Disclaimer
اس خبر میں انتظامی یونٹس کے قیام، وسائل کی تقسیم اور بلدیاتی اختیارات سے متعلق فاروق ستار اور ایم کیو ایم کے مؤقف کو ان کی جانب سے بیان کردہ مطالبات اور تجاویز کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ انتظامی یونٹس کی حتمی تشکیل یا صوبے کی انتظامی تقسیم کے لیے متعلقہ آئینی اور قانونی طریقہ کار کی تکمیل ضروری ہوگی۔ خبر میں کسی سیاسی مؤقف کو HRNW کی جانب سے تائید یا مخالفت کے طور پر پیش نہیں کیا گیا۔


