**کوہاٹ — (ایچ آراین ڈبلیو)**خیبر پختونخوا کے ضلع کوہاٹ میں پولیس لائنز کی مسجد میں نماز جمعہ کے دوران ہونے والے خودکش حملے اور اس کے بعد دہشت گردوں کے خلاف جاری کلیئرنس آپریشن تقریباً 21 گھنٹے بعد مکمل کرلیا گیا۔
پولیس اور سکیورٹی حکام کے مطابق جوابی کارروائی میں مجموعی طور پر 8 حملہ آور ہلاک کیے گئے، جبکہ ایلیٹ فورس کمانڈوز، کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) اور سکیورٹی فورسز نے پولیس لائنز کی اہم عمارتوں اور حصوں کو کلیئر کیا۔
حکام کے مطابق آپریشن کی نگرانی اعلیٰ پولیس و سکیورٹی حکام نے کی، جبکہ بم ڈسپوزل اسکواڈ نے بھی کارروائی میں حصہ لیا۔ کلیئرنس مکمل ہونے کے بعد علاقے کو پولیس کے حوالے کردیا گیا۔
پولیس کے مطابق کارروائی کے دوران حملہ آوروں کی جانب سے مزاحمت کا سامنا ہوا، تاہم سکیورٹی اہلکاروں نے مختلف عمارتوں کو مرحلہ وار کلیئر کیا۔ حکام نے بتایا کہ آپریشن میں پولیس، سی ٹی ڈی اور سکیورٹی فورسز کے اہلکار شریک تھے۔
دوسری جانب دھماکے میں زخمی ایک اور پولیس اہلکار کے جاں بحق ہونے کے بعد واقعے میں شہید ہونے والوں کی تعداد **22** ہوگئی ہے۔ حکام کے مطابق شہداء میں **16 پولیس اہلکار اور 6 شہری** شامل ہیں، جبکہ 100 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔
شہداء میں ایس پی ٹریفک اکبر شنواری اور ڈی ایچ کیو اسپتال کوہاٹ کے ڈاکٹر اسرائیل اورکزئی سمیت دیگر پولیس اہلکار اور شہری بھی شامل ہیں۔
حکام کے مطابق شہداء کی نماز جنازہ ادا کردی گئی، جس میں پولیس اور سکیورٹی حکام، سرکاری شخصیات، شہداء کے اہلخانہ اور شہریوں نے شرکت کی۔ پولیس کے چاق و چوبند دستے نے شہداء کو سلامی پیش کی، جبکہ بعد ازاں میتیں ان کے آبائی علاقوں کو روانہ کردی گئیں۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ حملے کے بعد امدادی کارروائیوں میں 20 ایمبولینسز، ریسکیو گاڑیوں اور دیگر وسائل کے ساتھ 60 سے زائد ریسکیو اہلکاروں نے حصہ لیا۔
حکام کے مطابق واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں جبکہ سکیورٹی اداروں کی جانب سے حملے کے محرکات، سہولت کاروں اور دیگر ممکنہ پہلوؤں کا جائزہ لیا جارہا ہے۔
## انسانی حقوق اور عوامی مفاد
عبادت گاہ اور پولیس لائنز میں شہریوں اور اہلکاروں کی جانوں کا ضیاع انتہائی سنگین واقعہ ہے۔ متاثرین اور زخمیوں کو فوری اور معیاری طبی امداد، شہداء کے خاندانوں کو ضروری معاونت اور متاثرہ افراد کو قانونی و سماجی مدد فراہم کرنا ریاستی ذمہ داری ہے۔
حملے کی مکمل اور شفاف تحقیقات بھی ضروری ہیں تاکہ ذمہ دار عناصر، ممکنہ سہولت کاروں اور سکیورٹی سے متعلق کمزوریوں کا تعین ہوسکے۔ کلیئرنس آپریشنز کے دوران شہریوں کے تحفظ اور انسانی حقوق کے تقاضوں کو بھی ملحوظ رکھا جانا چاہیے۔
## HRNW Support Appeal
انسانی حقوق، عوامی مسائل اور مستند خبروں کی آزادانہ کوریج کے لیے HRNW کی معاونت کریں۔
[HRNW Support Appeal](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)
## Disclaimer
یہ خبر پولیس، سکیورٹی حکام اور دستیاب میڈیا رپورٹس کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ ہلاکتوں، زخمیوں اور حملہ آوروں کی تعداد سے متعلق اعداد و شمار سرکاری تصدیق کے ساتھ تبدیل ہوسکتے ہیں۔ حملے کی ذمہ داری اور دیگر تفصیلات سے متعلق دعووں کو متعلقہ تحقیقات مکمل ہونے تک حتمی عدالتی نتیجہ تصور نہ کیا جائے۔


