**کراچی — (ایچ آراین ڈبلیو)**ملک میں پیٹرول اور ڈیزل کے ذخائر میں کمی اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو درپیش مالی مشکلات کے باعث ایندھن کی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔
آئل کمپنیز ایڈوائزری کونسل (او سی اے سی) نے وفاقی وزیر پٹرولیم اور چیئرمین اوگرا کو ہنگامی خط ارسال کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ سرمائے کی قلت کے باعث پیٹرول اور ڈیزل کی درآمد و خریداری متاثر ہوسکتی ہے، جس سے ملک میں اسٹریٹیجک ایندھن کے ذخائر برقرار رکھنا مشکل ہوسکتا ہے۔
او سی اے سی کے مطابق ملک میں پیٹرول کا تقریباً 18 دن جبکہ ڈیزل کا 27 دن کا ذخیرہ باقی رہ گیا ہے۔ کونسل کا کہنا ہے کہ آئل منگوانے کے لیے دستیاب سرمایہ مسلسل کم ہورہا ہے، جس سے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کی مالی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے۔
کونسل کے مطابق حکومت پر آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے **66 ارب 70 کروڑ روپے** واجب الادا ہیں۔ یہ رقم پرائس ڈیفرینشیل کلیمز اور دیگر واجبات کی مد میں پھنسی ہوئی ہے، جس کے باعث کمپنیوں کی ورکنگ کیپیٹل کی ضروریات متاثر ہورہی ہیں۔
او سی اے سی کا کہنا ہے کہ آئل مارکیٹنگ کمپنیاں اپنے موجودہ اسٹاک سے پیٹرول اور ڈیزل فروخت کرکے بینکوں اور سپلائرز کو ادائیگیاں کررہی ہیں۔ کونسل کے مطابق حکومت کی جانب واجب الادا رقم تقریباً پانچ پیٹرول کارگوز کے برابر بنتی ہے۔
او سی اے سی کے جنرل سیکریٹری ناظر عباس زیدی کے مطابق واجبات کی ادائیگی کے لیے 15 دن میں رقم جاری کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا، تاہم چھ ماہ گزرنے کے باوجود یہ معاملہ حل نہیں ہوسکا۔
کونسل نے اوگرا سے مطالبہ کیا ہے کہ کلیمز کی رقم فوری طور پر جاری کی جائے تاکہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو درپیش سرمائے کی قلت دور ہوسکے اور پیٹرول و ڈیزل کی خریداری اور درآمد متاثر نہ ہو۔
او سی اے سی نے مزید کہا ہے کہ ڈیلرز کے مارجن میں اضافہ کیا گیا ہے، تاہم آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے فی لیٹر مارجن میں مطلوبہ **1.22 روپے** کا اضافہ تاحال نافذ نہیں کیا گیا۔
حکومت کی جانب سے 18 ستمبر 2026 کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے متعلق تازہ اطلاع بھی جاری کی گئی ہے۔
## انسانی حقوق اور عوامی مفاد
پیٹرول اور ڈیزل کی مسلسل اور بلاتعطل فراہمی عوامی زندگی، پبلک ٹرانسپورٹ، اشیائے ضروریہ کی ترسیل اور کاروباری سرگرمیوں کے لیے اہم ہے۔ اگر سپلائی متاثر ہوتی ہے تو اس کے اثرات بالخصوص کم آمدنی والے طبقے اور روزانہ سفر کرنے والے شہریوں پر پڑ سکتے ہیں۔
حکومت اور متعلقہ ریگولیٹری اداروں کے لیے ضروری ہے کہ ایندھن کے ذخائر، درآمدی منصوبہ بندی، کمپنیوں کے واجبات اور قیمتوں کے نظام سے متعلق معلومات بروقت اور شفاف انداز میں عوام کے سامنے رکھیں تاکہ غیر یقینی صورتحال اور ممکنہ قلت سے بچا جاسکے۔
## HRNW Support Appeal
انسانی حقوق، عوامی مسائل اور مستند خبروں کی آزادانہ کوریج کے لیے HRNW کی معاونت کریں۔
[HRNW Support Appeal](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)
## Disclaimer
اس خبر میں ایندھن کے ذخائر، واجبات اور مالی مشکلات سے متعلق اعداد و شمار آئل کمپنیز ایڈوائزری کونسل کے مؤقف اور دستیاب رپورٹس کی بنیاد پر بیان کیے گئے ہیں۔ پیٹرول اور ڈیزل کے بحران کا خدشہ فی الحال ایک صنعتی ادارے کی جانب سے ظاہر کیا گیا ہے؛ اسے یقینی قلت یا بحران کے طور پر نہیں سمجھا جائے۔ صورتحال میں حکومتی اقدامات اور نئی درآمدات کے باعث تبدیلی ممکن ہے۔


