29

27 ستمبر لانگ مارچ: اسلام آباد ہائیکورٹ کا تفصیلی فیصلہ جاری

**اسلام آباد — (ایچ آراین ڈبلیو)**اسلام آباد ہائیکورٹ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے 27 ستمبر کو اسلام آباد میں مجوزہ لانگ مارچ اور احتجاج سے متعلق درخواست پر تفصیلی فیصلہ جاری کردیا ہے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ احتجاج، جلسے یا کسی بھی ایسی سرگرمی کے نتیجے میں شہریوں کے بنیادی حقوق متاثر نہیں ہونے چاہئیں۔ عدالت کے مطابق اسلام آباد کے شہریوں کے آئینی حقوق کی خلاف ورزی کی صورت میں قانون کے مطابق کارروائی کی جاسکتی ہے۔

فیصلے میں واضح کیا گیا کہ کسی سیاسی جماعت یا رہنما کو شاہراہوں، سڑکوں یا دیگر عوامی مقامات پر قبضہ کرنے یا انہیں غیر قانونی طور پر بند کرنے کا اختیار حاصل نہیں۔ عدالت نے متعلقہ صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی کہ اسلام آباد میں مارچ، جلسے یا احتجاج کے لیے سرکاری وسائل، فنڈز، گاڑیاں، مشینری یا دیگر سرکاری سامان سیاسی سرگرمی کے لیے استعمال نہ کیا جائے۔

عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ کسی سرکاری ملازم کو سیاسی احتجاج میں شرکت پر مجبور نہیں کیا جاسکتا، جبکہ متعلقہ حکام کی ذمہ داری ہے کہ شہریوں کی آزادانہ نقل و حرکت اور دیگر آئینی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔

فیصلے میں مزید کہا گیا کہ اگر کوئی عوامی عہدہ رکھنے والا شخص آئین یا قانون کی خلاف ورزی کرتا ہے تو اس کے خلاف قانونی کارروائی کی جاسکتی ہے اور اسے اپنے حلف کی پاسداری کرنا ہوگی۔

عدالت کے سامنے درخواست میں یہ مؤقف بھی پیش کیا گیا تھا کہ بڑے پیمانے پر احتجاج کی صورت میں سڑکوں کی بندش سے شہریوں، تاجروں، مریضوں، طلبہ اور دیگر افراد کی روزمرہ زندگی متاثر ہوسکتی ہے۔ درخواست میں سیاسی احتجاج کے آئینی حق اور عام شہریوں کے بنیادی حقوق کے درمیان قانونی توازن برقرار رکھنے کی استدعا کی گئی تھی۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کی ویب سائٹ کے مطابق عدالت بنیادی حقوق کے نفاذ اور عوامی و نجی مقدمات کی سماعت کے لیے اپنا عدالتی نظام اور کیس ریکارڈ فراہم کرتی ہے۔

## انسانی حقوق اور عوامی مفاد

آئین شہریوں کو پرامن اجتماع اور سیاسی اظہار کا حق دیتا ہے، تاہم احتجاج کے دوران دوسرے شہریوں کی نقل و حرکت، روزگار، کاروبار، علاج معالجے اور دیگر بنیادی حقوق کا تحفظ بھی ضروری ہے۔ اسی طرح سرکاری وسائل کا استعمال قانون اور مقررہ قواعد کے مطابق ہونا چاہیے تاکہ عوامی وسائل کو سیاسی سرگرمیوں سے الگ رکھا جاسکے۔

احتجاج یا لانگ مارچ کے دوران ریاستی اداروں اور سیاسی جماعتوں دونوں کے لیے ضروری ہے کہ شہریوں کے بنیادی حقوق، امن و امان اور قانون کی بالادستی کو ملحوظ رکھا جائے۔

## HRNW Support Appeal

انسانی حقوق، عوامی مسائل اور مستند خبروں کی آزادانہ کوریج کے لیے HRNW کی معاونت کریں۔

[HRNW Support Appeal](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)

## Disclaimer

یہ خبر اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے اور دستیاب عدالتی و میڈیا رپورٹس کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ عدالتی فیصلے میں بیان کردہ قانونی نکات کو عدالت کے مؤقف کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ سیاسی جماعتوں یا دیگر فریقین سے متعلق کسی بھی مؤقف کو ان کی جانب سے پیش کردہ مؤقف کے طور پر سمجھا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں