**لاہور (ایچ آراین ڈبلیو)** — پنجاب کی ماتحت عدالتوں میں عملے کی بھرتیوں کے لیے 150 سال سے رائج براہِ راست بھرتی کا نظام ختم کر دیا گیا ہے۔
لاہور ہائیکورٹ کی چیف جسٹس عالیہ نیلم کی سربراہی میں فل کورٹ نے ماتحت عدالتوں میں عملے کی بھرتیوں کے لیے نئے رولز کی متفقہ منظوری دے دی ہے۔
نئے نظام کے تحت سیشن ججز اب اپنے اپنے اضلاع میں ماتحت عدلیہ کے عملے کی براہِ راست بھرتی نہیں کر سکیں گے۔ ماتحت عدالتوں میں بھرتیوں کے لیے لاہور ہائیکورٹ سیکریٹریٹ میں باقاعدہ نیا نظام قائم کیا جائے گا۔
نظام کے مطابق جس ضلع میں عدالتی عملے کی کمی ہوگی، متعلقہ سیشن جج ڈائریکٹر جنرل اسٹیبلشمنٹ کو خالی آسامیوں سے آگاہ کرے گا۔ ڈی جی اسٹیبلشمنٹ ضروری چھان بین اور کارروائی مکمل کرنے کے بعد بھرتی کا کیس لاہور ہائیکورٹ سیکریٹریٹ کو ارسال کرے گا۔
نئے طریقہ کار کا مقصد ماتحت عدالتوں میں بھرتیوں کے عمل کو زیادہ منظم، شفاف اور یکساں بنانا قرار دیا گیا ہے۔
### انسانی پہلو
شفاف اور میرٹ پر مبنی بھرتی کا نظام عدالتی اداروں میں عوام کے اعتماد کو مضبوط کرنے کے ساتھ ساتھ امیدواروں کو مساوی مواقع فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
### HRNW Support Appeal
Human Rights News Worldwide (HRNW) انسانی حقوق، شہری آزادیوں، انصاف اور انسانی وقار کے فروغ کے لیے کام کر رہا ہے۔ HRNW کے اس مشن کو جاری رکھنے کے لیے آپ کی معاونت اہم ہے۔
[Support HRNW](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)
### Disclaimer
یہ خبر فراہم کردہ معلومات کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ نئے بھرتی نظام اور رولز سے متعلق حتمی قانونی حیثیت اور تفصیلات متعلقہ سرکاری نوٹیفکیشن اور لاہور ہائیکورٹ کے باضابطہ ریکارڈ سے دیکھی جا سکتی ہیں۔


