**کراچی — (ایچ آراین ڈبلیو)**حکومت کی جانب سے موٹر سائیکل سواروں کے لیے اعلان کردہ فیول ریلیف اسکیم کی رجسٹریشن کے لیے ایس ایم ایس سروس استعمال کرنے والے شہریوں نے پیغامات کے چارجز پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔
شہریوں کے مطابق ریلیف اسکیم میں رجسٹریشن کے لیے بھیجے جانے والے ہر ایس ایم ایس پر تقریباً 5 روپے چارج کیے جا رہے ہیں۔ بعض صارفین کا کہنا ہے کہ متعدد ایس ایم ایس بھیجنے کی صورت میں ان کے موبائل بیلنس سے 20 روپے تک کٹوتی ہوچکی ہے، تاہم انہیں فیول ریلیف کی سہولت فعال ہونے یا رجسٹریشن مکمل ہونے کا تصدیقی پیغام تاحال موصول نہیں ہوا۔
شہریوں کی جانب سے سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ اگر بڑی تعداد میں موٹر سائیکل سوار رجسٹریشن کے لیے ایس ایم ایس بھیجیں تو اس سروس سے حاصل ہونے والی رقم کہاں جائے گی اور اس کا حساب کتاب کیسے رکھا جائے گا۔
سوشل میڈیا پر بعض صارفین نے اندازہ پیش کیا ہے کہ اگر کروڑوں افراد رجسٹریشن کے لیے ایس ایم ایس کریں تو پیغام رسانی کے چارجز کی مد میں بڑی رقم جمع ہوسکتی ہے۔ تاہم یہ اعداد و شمار اور اس سے حاصل ہونے والی رقم کے دعوے سرکاری طور پر تصدیق شدہ نہیں، اس لیے حتمی رقم کا تعین متعلقہ سرکاری اداروں یا موبائل آپریٹرز کے مستند اعداد و شمار سے ہی کیا جا سکتا ہے۔
شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ فیول ریلیف اسکیم کے ایس ایم ایس چارجز، رجسٹریشن کے طریقہ کار اور وصول ہونے والی رقم کے استعمال سے متعلق واضح معلومات فراہم کی جائیں، جبکہ ناکام یا غیرمکمل رجسٹریشن کی صورت میں شہریوں کو غیر ضروری مالی بوجھ سے بچانے کے لیے مناسب طریقہ کار وضع کیا جائے۔
## انسانی حقوق اور عوامی مفاد
عوامی ریلیف اسکیموں میں رجسٹریشن کا طریقہ کار آسان، شفاف اور کم لاگت ہونا چاہیے۔ شہریوں سے وصول کیے جانے والے ایس ایم ایس چارجز، رجسٹریشن کی کامیابی اور ریلیف کی فراہمی کے بارے میں واضح معلومات دینا صارفین کے حقِ معلومات اور شفاف حکمرانی کے تقاضوں میں شامل ہے۔ کسی بھی مالی دعوے کی درست تصدیق سرکاری اعداد و شمار اور متعلقہ اداروں کے ریکارڈ سے ضروری ہے۔
## HRNW Support Appeal
HRNW کی آزاد صحافتی اور انسانی حقوق کی سرگرمیوں کو سپورٹ کرنے کے لیے:
[HRNW Support Appeal](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)
## Disclaimer
یہ خبر شہریوں کی جانب سے سامنے آنے والے دعووں اور دستیاب معلومات کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ ایس ایم ایس چارجز، رجسٹریشن کی تعداد اور ممکنہ آمدن سے متعلق اعداد و شمار کی آزادانہ یا سرکاری تصدیق کے بغیر انہیں حتمی حقیقت نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ متعلقہ حکومتی اداروں اور موبائل آپریٹرز کا باضابطہ مؤقف سامنے آنے کے بعد مزید وضاحت ممکن ہوگی۔


