**کراچی — (ایچ آراین ڈبلیو)**سندھ ہائیکورٹ میں پولیس افسر سے مبینہ بدسلوکی اور ہاتھا پائی کے معاملے پر پولیس انسپکٹر شعیب پٹھان کی مدعیت میں وکیل اکبر جتوئی اور زیرِ حراست ملزم کے بعض رشتے داروں کے خلاف دہشت گردی سمیت مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا۔
فراہم کردہ معلومات کے مطابق مقدمے میں مبینہ تشدد، کارِ سرکار میں مداخلت، زیرِ حراست ملزم کو فرار کرانے کی کوشش اور دہشت گردی سے متعلق دفعات شامل کی گئی ہیں۔
پولیس کے مطابق ملزم داد شاہ کی ضمانت منسوخ ہونے کے بعد پولیس افسر نے اسے سندھ ہائیکورٹ سے گرفتار کیا تھا۔ پولیس کا مؤقف ہے کہ اس دوران وکیل اکبر جتوئی نے پولیس افسر کو تھپڑ مارے جبکہ ملزم کے رشتے داروں کی جانب سے بھی مبینہ طور پر ہاتھا پائی کی گئی۔
واقعے کے بعد پولیس افسر کی مدعیت میں مقدمہ درج کرکے معاملے کی مزید تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔ مقدمے میں عائد الزامات کی حتمی حیثیت کا تعین تفتیش اور عدالتی کارروائی کے بعد ہوگا۔
## انسانی حقوق اور عوامی مفاد
عدالتی احاطوں میں امن و امان، عدالتی عملے اور پولیس اہلکاروں کی سلامتی کے ساتھ وکلا اور زیرِ سماعت مقدمات سے متعلق افراد کے قانونی حقوق کا تحفظ بھی ضروری ہے۔ کسی بھی تنازعے میں شفاف تفتیش، دستیاب شواہد کی مکمل جانچ اور قانونی طریقہ کار کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے۔ مقدمے میں نامزد افراد کو عدالتی فیصلے سے قبل مجرم قرار دینا مناسب نہیں۔
## HRNW Support Appeal
انسانی حقوق، عوامی مسائل اور ذمہ دار صحافت کے فروغ کے لیے HRNW کی معاونت کریں:
[HRNW Support Appeal](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)
## Disclaimer
یہ خبر فراہم کردہ معلومات اور پولیس کے مؤقف کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ واقعے میں تشدد، ہاتھا پائی اور دیگر الزامات کی آزادانہ تصدیق اس خبر میں نہیں کی گئی۔ مقدمے میں شامل الزامات عدالت میں ثابت ہونا باقی ہیں اور تمام نامزد افراد کو حتمی عدالتی فیصلے تک بے گناہ تصور کیے جانے کا قانونی حق حاصل ہے۔


