**کراچی — (ایچ آراین ڈبلیو)**وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیرِ صدارت صوبائی انسدادِ پولیو ٹاسک فورس کا اجلاس ہوا، جس میں سندھ میں پولیو وائرس کے خلاف جاری اقدامات، ماحولیاتی نگرانی اور آئندہ حفاظتی ٹیکہ جات مہم کی تیاریوں کا جائزہ لیا گیا۔
وزیراعلیٰ سندھ نے اجلاس کو بتایا کہ سندھ میں پولیو کیسز کی تعداد 2024 میں 23 سے کم ہوکر 2025 میں 9 ہوگئی، جبکہ 2026 میں اب تک صوبے میں صرف ایک کیس رپورٹ ہوا ہے۔ ان کے مطابق ماحولیاتی نگرانی سے بھی وائرس کی گردش میں کمی کے شواہد سامنے آرہے ہیں اور وائرس کی موجودگی چند ہائی رسک علاقوں تک محدود ہوتی جارہی ہے۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ رواں سال سندھ میں پولیو کا واحد کیس **10 فروری کو سجاول** سے رپورٹ ہوا۔ وزیر صحت ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو کے مطابق پاکستان میں وائلڈ پولیو وائرس ٹائپ ون کے کیسز بھی 2024 کے 74 سے کم ہوکر 2025 میں 31 رہے، جبکہ 2026 میں اب تک 3 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔
ای او سی کوآرڈینیٹر شہریار گل نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ مثبت ماحولیاتی نگرانی کے مقامات کی تعداد مارچ 2025 میں 29 سے کم ہوکر اگست 2026 میں 5 رہ گئی۔ کراچی سے باہر نگرانی کے تمام 14 مقامات منفی ہیں، جبکہ کراچی کے 15 میں سے 6 مقامات پر وائرس کی موجودگی بدستور رپورٹ ہورہی ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ پولیو کے کیسز میں کمی حوصلہ افزا ہے، تاہم ایک کیس بھی قابلِ قبول نہیں۔ انہوں نے ویکسین سے محروم بچوں، ویکسین سے انکار کرنے والے والدین اور انتظامی خامیوں کے معاملے میں مؤثر اقدامات کی ہدایت کی۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ 2026 کے دوران خصوصی بوسٹر مہمات کے تحت کراچی میں تقریباً 30 لاکھ او پی وی خوراکیں اور 28 لاکھ 90 ہزار بوسٹر ڈوز دی گئیں، جبکہ دیگر ڈویژنز میں تقریباً 27 لاکھ او پی وی خوراکیں اور 25 لاکھ 80 ہزار بوسٹر ڈوز دی گئیں۔
حکام کے مطابق جولائی کی ایس این آئی ڈیز مہم کے بعد 10 روزہ خصوصی فالو اَپ مہم کے ذریعے ویکسین سے محروم رہ جانے والے بچوں تک دوبارہ رسائی حاصل کی گئی۔ مجموعی طور پر 146,149 رہ جانے والے بچوں میں سے 23,500 سے زائد بچوں کو ہدفی کوششوں کے ذریعے ویکسین پلائی گئی۔
### 21 سے 27 ستمبر تک انسدادِ پولیو مہم
اجلاس میں بتایا گیا کہ **21 سے 27 ستمبر 2026** تک سندھ بھر میں ذیلی قومی حفاظتی ٹیکہ جات مہم چلائی جائے گی، جس کے دوران پانچ سال سے کم عمر تقریباً **ایک کروڑ بچوں** کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جائیں گے۔
مہم 23 مکمل اضلاع اور 7 جزوی اضلاع کی منتخب یونین کونسلز میں ہوگی، جس میں 80 ہزار سے زائد فرنٹ لائن ورکرز حصہ لیں گے، جبکہ سیکیورٹی کے لیے 26 ہزار سے زائد پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔
وزیراعلیٰ سندھ نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ مہم سے قبل ویکسین کی دستیابی، لاجسٹکس، افرادی قوت، سیکیورٹی اور نگرانی کے تمام انتظامات مکمل کیے جائیں۔ انہوں نے دور دراز علاقوں میں خدمات انجام دینے والے فرنٹ لائن ورکرز، اساتذہ، کمیونٹی موبلائزرز اور محکمہ صحت کے عملے کی خدمات کو بھی سراہا۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ ماحولیاتی نمونے وائرس کی موجودگی کے حوالے سے انتباہی اشارے ہیں، اس لیے وائرس کے حساس بچوں تک پہنچنے سے پہلے حفاظتی اقدامات ضروری ہیں۔ انہوں نے والدین کا اعتماد حاصل کرنے اور ویکسین سے انکار کی شرح کم کرنے کے لیے کمیونٹی رابطہ مہمات مزید مؤثر بنانے کی ہدایت بھی کی۔
## انسانی حقوق اور عوامی مفاد
بچوں کو قابلِ انسداد بیماریوں سے محفوظ رکھنا صحت کے بنیادی حق اور عوامی مفاد سے جڑا معاملہ ہے۔ پولیو مہم کے دوران ہر بچے تک ویکسین کی رسائی، محفوظ اور مؤثر ویکسینیشن، درست نگرانی اور والدین کو قابلِ اعتماد معلومات کی فراہمی ضروری ہے۔ دور دراز اور کم سہولت یافتہ علاقوں کے بچوں کو بھی بلاامتیاز حفاظتی سہولیات فراہم کرنا صحت عامہ کے مؤثر نظام کا اہم حصہ ہے۔
## HRNW Support Appeal
انسانی حقوق، صحتِ عامہ اور عوامی مفاد سے متعلق اہم خبریں اجاگر کرنے کے لیے HRNW کی معاونت کریں:
[HRNW Support Appeal](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)
## Disclaimer
یہ خبر سندھ حکومت اور انسدادِ پولیو حکام کی جانب سے اجلاس میں فراہم کردہ اعداد و شمار اور معلومات کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ پولیو کیسز، ماحولیاتی نمونوں اور ویکسینیشن کے اعداد و شمار میں بعد ازاں سرکاری اپ ڈیٹس کی صورت میں تبدیلی ممکن ہے۔


