**اسلام آباد (ایچ آراین ڈبلیو)** حکومت نے ٹیکس اصلاحات میں مسلسل ناکامی کے باوجود ٹیکس نیٹ بڑھانے کے لیے مزید قرض لینے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ ایشیائی ترقیاتی بینک سے ٹیکس نظام میں اصلاحات اور ڈیجیٹلائزیشن کے لیے **57 ارب 10 کروڑ 90 لاکھ روپے** قرض لیا جائے گا، جس پر پاکستان کو سالانہ تقریباً ڈیڑھ سے 2 فیصد تک سود ادا کرنا ہوگا۔
تفصیلات کے مطابق اس منصوبے کو **”ٹرانسفارمنگ اینڈ ڈیجیٹلائزیشن ریونیو ایڈمنسٹریشن”** کا نام دیا گیا ہے۔ منصوبے کے تحت حاصل ہونے والی رقم میں سے تقریباً **22.5 ارب روپے کنسلٹنسی سروسز** جبکہ **2.77 ارب روپے پراجیکٹ مینجمنٹ** پر خرچ کیے جائیں گے۔
منصوبے کے تحت اگلے پانچ سال میں رجسٹرڈ ٹیکس دہندگان کی تعداد موجودہ سطح سے بڑھا کر **ایک کروڑ 20 لاکھ** کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ پاکستان میں اس وقت سالانہ ٹیکس گوشوارے جمع کرانے والوں کی تعداد تقریباً **70 لاکھ** بتائی جاتی ہے۔
ملک میں موجودہ ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح **10.3 فیصد** ہے، جبکہ منصوبے کے تحت 2029 تک اسے بڑھا کر **13.5 فیصد** کرنے کا ہدف مقرر کیا جائے گا۔
ایف بی آر کے مطابق منصوبے کے تحت ٹیکس نیٹ سے باہر موجود نئے افراد کو بھی ٹیکس نظام میں شامل کیا جائے گا۔ ایف بی آر کے پانچ سالہ ٹرانسفارمیشن پلان کے تحت پہلے ہی اصلاحات جاری ہیں، جبکہ اس منصوبے کے لیے کابینہ **350 ارب روپے کے فنڈز** کی منظوری دے چکی ہے۔
دوسری جانب پاکستان ریزز ریونیو پروگرام کے تحت عالمی بینک کے بیشتر اہداف حاصل نہیں کیے جا سکے۔ **40 کروڑ ڈالر** کے اس منصوبے کے تحت ٹیکس ٹو جی ڈی پی کی شرح **18 فیصد** تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا گیا تھا۔
پاکستان ایف بی آر میں اصلاحات کے لیے اب تک مجموعی طور پر تقریباً **4.7 ارب ڈالر** قرض لے چکا ہے۔ مزید **20 کروڑ ڈالر** کے مساوی قرض لینے کے بعد یہ حجم تقریباً **4.9 ارب ڈالر** تک پہنچ جائے گا۔
ایف بی آر گزشتہ مسلسل دو سال سے سالانہ ٹیکس وصولی کا ہدف حاصل کرنے میں بھی ناکام رہا ہے، جس کے باعث ٹیکس نظام کی اصلاحات، محصولات میں اضافے اور قرض پر انحصار کے حوالے سے حکومتی پالیسی پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔
## انسانی حقوق اور عوامی مفاد
ٹیکس نظام میں اصلاحات کا بنیادی مقصد ریاستی محصولات میں اضافہ، ٹیکس چوری کی روک تھام اور معیشت میں شفافیت پیدا کرنا ہونا چاہیے۔ تاہم نئے ٹیکس دہندگان کو نظام میں شامل کرتے وقت کم آمدنی والے طبقات اور چھوٹے کاروباروں پر غیر ضروری مالی دباؤ سے بچانا بھی ضروری ہے۔ عوامی مفاد میں ٹیکس نظام ایسا ہونا چاہیے جس میں شفافیت، مساوات اور مؤثر عوامی خدمات کی فراہمی یقینی بنائی جائے، جبکہ مسلسل قرض لینے کے بجائے پائیدار معاشی اصلاحات پر توجہ دی جائے۔
## HRNW Support Appeal
انسانی حقوق، عوامی آگاہی اور آزاد صحافت کے فروغ کے لیے **HRNW** کی معاونت کریں:
[https://www.hrnww.com/?page_id=1083](https://www.hrnww.com/?page_id=1083)
## Disclaimer
یہ خبر فراہم کردہ معلومات اور دستیاب تفصیلات کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ قرض کی رقم، شرح سود، منصوبے کے اہداف اور حکومتی پالیسی سے متعلق حتمی تفصیلات میں متعلقہ سرکاری اداروں یا مالیاتی معاہدوں کے مطابق تبدیلی ممکن ہے۔ خبر میں بیان کردہ اعداد و شمار کی حتمی تصدیق متعلقہ سرکاری اور مالیاتی ذرائع سے کی جانی چاہیے۔


