**کراچی (ایچ آراین ڈبلیو)** — گریجویٹ فورم پاکستان کے زیر اہتمام کراچی کے بیچ لگژری ہوٹل میں **بااختیار بلدیاتی نظام اور نئے انتظامی یونٹس کے قیام** کے حوالے سے قومی مذاکرہ منعقد ہوا، جس میں سیاسی رہنماؤں، ارکانِ پارلیمنٹ، تاجر برادری، بیوروکریٹس اور مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے شرکت کی۔
مذاکرے میں **ایم کیو ایم پاکستان کے چیئرمین ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی، نسرین جلیل، ڈاکٹر فاروق ستار، سید امین الحق، وسیم اختر، فیصل سبزواری** سمیت دیگر رہنماؤں نے شرکت کی۔
### وسیم اختر: اختیارات کے بغیر کراچی کی خدمت ممکن نہیں
سینئر رہنما اور سابق میئر کراچی **وسیم اختر** نے کہا کہ گریجویٹ فورم کے ذمہ داران قابلِ تعریف ہیں کہ انہوں نے اہم موضوع پر قومی سطح کا مذاکرہ منعقد کیا۔
انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم پاکستان کی مقامی حکومتوں کو بااختیار بنانے اور نئے صوبوں کے قیام کے حوالے سے طویل جدوجہد ہے۔ ان کے مطابق وہ خود کراچی کے میئر رہے، لیکن اختیارات اور وسائل نہ ہونے کے باعث شہر کی بہتر خدمت نہ کرسکے۔
وسیم اختر نے کہا کہ بااختیار مقامی حکومتوں کے لیے عدالت سے رجوع کیا گیا اور سپریم کورٹ سے کیس بھی جیتا گیا۔ ان کے مطابق بڑی سیاسی جماعتوں کے ساتھ بھی اسی بنیادی نکتے پر معاہدے کیے گئے، جن پر بلاول بھٹو، شہباز شریف، مولانا فضل الرحمن اور دیگر سیاسی رہنماؤں نے دستخط کیے، تاہم ان معاہدوں پر آج بھی عملدرآمد کا انتظار ہے۔
انہوں نے کہا کہ اب قومی سطح پر نئے انتظامی یونٹس کے قیام کی بات ہو رہی ہے اور اس جدوجہد کو رکنا نہیں چاہیے۔ ان کے مطابق کراچی کے معززین، کاروباری افراد اور تمام شعبوں سے وابستہ لوگوں کو اس معاملے پر آواز بلند کرنا ہوگی، کیونکہ یہ محض سیاسی نہیں بلکہ شہر کی بقا اور ترقی کا مسئلہ ہے۔
### عرفان اللہ مروت: موجودہ طرز حکمرانی سے کراچی نہیں چل سکتا
سینئر سیاستدان **عرفان اللہ مروت** نے کہا کہ اس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ جس طرح کراچی کو چلایا جا رہا ہے، اس طرح شہر نہیں چل سکتا۔
انہوں نے نئے انتظامی یونٹس کے قیام کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی ضروریات اور بڑھتی ہوئی آبادی کو مدنظر رکھتے ہوئے انتظامی ڈھانچے پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔
ان کے مطابق کراچی کی آبادی ساڑھے تین کروڑ سے تجاوز کرچکی ہے اور شہر کی حدود بھی وسیع ہوچکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کسی ایک زبان بولنے والے کا شہر نہیں بلکہ پختون برادری سمیت مختلف قومیتوں اور زبانوں سے تعلق رکھنے والے شہری یہاں آباد ہیں۔
عرفان اللہ مروت نے بااختیار لوکل گورنمنٹ کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ شہر میں نئی آبادیاں اور ٹاؤن شپ بن رہی ہیں، لیکن مناسب منصوبہ بندی کا فقدان ہے۔ انہوں نے سعدی ٹاؤن کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ یہ علاقہ برساتی پانی کی ڈھلوان پر آباد کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ صوبوں کا قیام یا انہیں انتظامی یونٹس کا نام دینا وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے۔
### جاوید حنیف: بااختیار لوکل گورنمنٹ کے لیے آئینی ترمیمی بل جمع کرا چکے ہیں
رکن قومی اسمبلی **جاوید حنیف** نے کہا کہ بااختیار لوکل گورنمنٹ کا نفاذ ہونا ہی ہے اور اب بحث صرف مقامی حکومتوں تک محدود نہیں بلکہ نئے انتظامی یونٹس کے قیام تک پہنچ چکی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ لوکل گورنمنٹ کو بااختیار بنانے کے لیے **آئینی ترمیم کا بل قومی اسمبلی میں جمع کرایا جا چکا ہے** اور یہ بل قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی میں موجود ہے۔
جاوید حنیف نے الزام عائد کیا کہ پیپلز پارٹی مقامی حکومتوں کو بااختیار بنانے میں رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کی نمائندگی اور آواز کو مؤثر بنانے کے لیے انتظامی ڈھانچے میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔
### عتیق میر: کراچی کے تاجر نئے انتظامی یونٹس کے حامی ہیں
تاجر رہنما **عتیق میر** نے کراچی کی معاشی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شہر کی معیشت شدید مشکلات کا شکار ہے۔
انہوں نے کہا کہ کراچی کبھی ایک خوشنما شہر تھا، لیکن اب یہاں شہری زندگی مسائل سے دوچار ہے۔ عتیق میر نے کہا کہ کراچی بھر کے تاجر بااختیار بلدیاتی نظام اور نئے انتظامی یونٹس کے مطالبے کے ساتھ کھڑے ہیں۔
انہوں نے ملک میں نئے انتظامی یونٹس کے قیام کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ کراچی کے مسائل کے حل کے لیے مؤثر اور بااختیار انتظامی نظام ضروری ہے۔
### Human Angle
کراچی کی بڑھتی ہوئی آبادی، شہری پھیلاؤ، بنیادی سہولیات، بجلی، پانی، ٹرانسپورٹ، نکاسی آب اور شہری منصوبہ بندی کے مسائل نے مقامی حکمرانی کی اہمیت مزید بڑھا دی ہے۔ بااختیار بلدیاتی ادارے شہریوں کو بنیادی خدمات کی فراہمی، جواب دہی اور مقامی سطح پر فیصلہ سازی میں مؤثر کردار ادا کرنے کا موقع فراہم کر سکتے ہیں۔
نئے انتظامی یونٹس یا صوبوں کے قیام کا معاملہ ایک حساس آئینی اور سیاسی موضوع ہے، جس پر عوامی رائے، آئینی طریقہ کار، قومی اتفاقِ رائے اور تمام متعلقہ فریقوں کے حقوق کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔
### HRNW Support Appeal
**Human Rights News Worldwide (HRNW)** انسانی حقوق، شہری آزادیوں، انصاف اور انسانی وقار کے فروغ کے لیے آزادانہ صحافت اور عوامی آگاہی کے مشن پر کام کرتا ہے۔ HRNW کے اس نیک مشن کو جاری رکھنے کے لیے آپ کی حمایت اہم ہے۔
**Support HRNW:**
[https://www.hrnww.com/?page_id=1083](https://www.hrnww.com/?page_id=1083)
### Disclaimer
یہ خبر قومی مذاکرے میں شریک مقررین کی تقاریر، بیانات اور پیش کردہ مؤقف کی بنیاد پر عوامی آگاہی کے لیے مرتب کی گئی ہے۔ خبر میں شامل سیاسی و انتظامی تجاویز اور الزامات متعلقہ مقررین کے مؤقف ہیں، جن کی HRNW نے آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کی۔ نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کے قیام سے متعلق کوئی بھی فیصلہ آئینی اور قانونی طریقہ کار کے مطابق ہی عمل میں آسکتا ہے۔


