**کراچی — (ایچ آراین ڈبلیو)**سندھ حکومت کے مختلف اداروں، بالخصوص **کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (KMC)** اور **ٹاؤن میونسپل کارپوریشنز (TMCs)** میں او پی ایس اور اضافی چارج پر افسران کی تعیناتیوں سے متعلق سندھ ہائی کورٹ نے نوٹس لیتے ہوئے چیف سیکریٹری سندھ سمیت متعلقہ حکام سے جواب طلب کرلیا۔
رپورٹ کے مطابق کراچی سمیت سندھ کے مختلف سرکاری محکموں میں متعدد افسران مستقل تعیناتی کے بجائے **او پی ایس (Officiating/Additional Charge)** کی بنیاد پر اہم ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں۔ ذرائع کی جانب سے بعض بلدیاتی اداروں میں او پی ایس یا اضافی چارج پر تعیناتیوں کی شرح تقریباً 80 فیصد تک ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق بعض افسران بیک وقت دو سے تین اہم عہدوں کا اضافی چارج بھی سنبھالے ہوئے ہیں، جس کے باعث انتظامی معاملات، مالی فیصلوں اور ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی کے حوالے سے سوالات اٹھ رہے ہیں۔
سروس قوانین کے ماہرین کے مطابق طویل عرصے تک او پی ایس یا اضافی چارج کی بنیاد پر تعیناتیاں میرٹ، سینیارٹی اور شفاف انتظامی نظام کو متاثر کرسکتی ہیں، جبکہ مستقل اور اہل افسران کی ترقی کے مواقع بھی متاثر ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔
اس صورتحال کے خلاف سندھ ہائی کورٹ میں دائر درخواست کی سماعت کے دوران عدالت نے چیف سیکریٹری سندھ اور دیگر متعلقہ حکام کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کیا۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ مختلف محکموں میں قواعد و ضوابط کے برعکس افسران کو اضافی چارجز دیے گئے جبکہ اہل اور مستقل افسران کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
بلدیاتی حلقوں کے مطابق ایک افسر کے پاس بیک وقت متعدد اہم عہدوں کا چارج ہونے سے انتظامی کارکردگی متاثر ہونے اور اختیارات کے ارتکاز کا خدشہ پیدا ہوتا ہے، جبکہ احتساب اور نگرانی کا نظام بھی کمزور ہوسکتا ہے۔
شہری حلقوں اور سرکاری ملازمین کی تنظیموں نے مطالبہ کیا ہے کہ اہم عہدوں پر تعیناتیاں سروس رولز، اہلیت، سینیارٹی اور میرٹ کے اصولوں کے مطابق کی جائیں تاکہ بلدیاتی اداروں کی کارکردگی بہتر اور انتظامی معاملات زیادہ شفاف بنائے جاسکیں۔
ماہرین کے مطابق اگر عدالت او پی ایس یا اضافی چارج کی بعض تعیناتیوں کو قواعد و ضوابط کے منافی قرار دیتی ہے تو KMC، TMCs اور سندھ حکومت کے دیگر اداروں میں بڑے پیمانے پر تبادلوں اور نئی تعیناتیوں کی راہ ہموار ہوسکتی ہے، تاہم اس حوالے سے حتمی صورتحال عدالت کے فیصلے اور متعلقہ حکام کے جواب کے بعد واضح ہوگی۔
### انسانی حقوق اور عوامی مفاد
سرکاری اداروں میں شفاف، میرٹ پر مبنی اور قواعد کے مطابق تعیناتیاں اچھی حکمرانی اور عوامی خدمات کی مؤثر فراہمی کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہیں۔ مستقل افسران کی سینیارٹی، ترقی اور ملازمت کے حقوق کا تحفظ ضروری ہے، جبکہ اضافی چارجز اور او پی ایس تعیناتیوں کا جائزہ شفاف طریقے سے لیا جانا چاہیے تاکہ اختیارات کے غیر ضروری ارتکاز، مفادات کے ٹکراؤ اور انتظامی کمزوریوں کے خدشات کو کم کیا جاسکے۔
### HRNW Support Appeal
انسانی حقوق، عوامی مفاد اور آزاد صحافتی رپورٹنگ کے فروغ کے لیے HRNW کی معاونت کریں:
[HRNW Support Appeal](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)
### Disclaimer
یہ خبر فراہم کردہ معلومات اور رپورٹ میں بیان کردہ دعووں کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ او پی ایس تعیناتیوں کی شرح، قواعد کی خلاف ورزی اور متعلقہ افسران کی ذمہ داری سے متعلق حتمی حقائق عدالت یا متعلقہ سرکاری حکام کے ریکارڈ اور فیصلے سے واضح ہوں گے۔ کسی فرد یا ادارے کے بارے میں بیان کردہ الزام کو حتمی فیصلہ تصور نہ کیا جائے۔


