**کراچی — (ایچ آراین ڈبلیو)**گل پلازہ آتشزدگی کیس میں سٹی کورٹ نے ملزمان کی جانب سے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دینے کی درخواست مسترد کردی، جبکہ عدالت نے آئندہ سماعت پر چالان کی منظوری اور سرکاری اداروں کو مقدمے میں ملزم بنانے سے متعلق فیصلہ کرنے کا عندیہ دیا ہے۔
سٹی کورٹ کراچی میں سانحہ گل پلازہ آتشزدگی کیس کی سماعت ہوئی، جس میں تنویر پاستا اور دیگر ملزمان عدالت میں پیش ہوئے۔ ملزمان کے وکیل جاوید میر نے جے آئی ٹی تشکیل دینے کی درخواست دائر کی، تاہم عدالت نے درخواست مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ جے آئی ٹی عموماً دہشتگردی کے مقدمات میں تشکیل دی جاتی ہے۔
عدالت نے قرار دیا کہ آئندہ سماعت پر چالان منظور کرنے کے حوالے سے فیصلہ کیا جائے گا اور یہ بھی طے کیا جائے گا کہ سرکاری اداروں کو مقدمے میں ملزم بنایا جانا چاہیے یا نہیں۔ عدالت نے سماعت **18 ستمبر** تک ملتوی کردی۔
دورانِ سماعت پراسیکیوٹر حسن بھٹی نے تنویر پاستا کو مبینہ طور پر سب سے زیادہ غفلت کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے آگ بجھانے والے اداروں کو بروقت کال نہیں کی۔
دوسری جانب وکیلِ صفائی جاوید میر نے مؤقف اختیار کیا کہ نئے تفتیشی افسر نے بھی سرکاری اداروں کو مقدمے سے بچانے کی کوشش کی، حالانکہ عدالت پہلے ہی متعلقہ سرکاری اداروں کو شاملِ تفتیش کرنے کا حکم دے چکی تھی۔
وکیلِ صفائی کے مطابق تنویر پاستا بلڈر یا عمارت کے مالک نہیں تھے اور سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی جانب سے بھی مبینہ طور پر بلڈر کے خلاف کارروائی نہیں کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ سانحے میں 70 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے اور دوسری مرتبہ پیش کیے گئے چالان میں کے ایم سی، ایس بی سی اے، فائر بریگیڈ اور دیگر اداروں کو کلین چٹ دے دی گئی۔
جاوید میر نے عدالت کو بتایا کہ آگ گراؤنڈ فلور پر لگی جہاں ان کے مطابق کوئی شخص جاں بحق نہیں ہوا، جبکہ 5 ہزار سے زائد افراد کو وہاں سے نکالا گیا۔ ان کا مؤقف تھا کہ بیشتر اموات آگ لگنے کے بجائے دم گھٹنے اور مبینہ سرکاری غفلت و نااہلی کے باعث ہوئیں۔ انہوں نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ فائر بریگیڈ کے پاس موقع پر مطلوبہ مقدار میں پانی موجود نہیں تھا۔
وکیلِ صفائی نے مزید کہا کہ ڈپٹی کمشنر ساؤتھ مبینہ طور پر چند منٹ میں جائے وقوع پر پہنچ گئے تھے، تاہم تفتیشی افسر نے ان کا بیان ریکارڈ نہیں کیا۔ ان کے مطابق متاثرین طویل وقت تک مدد کے لیے پکارتے رہے، جبکہ عدالت کی جانب سے دوبارہ تفتیش کے حکم میں دیے گئے سات نکات پر بھی مکمل عمل نہیں کیا گیا۔
تفتیشی افسر ڈی ایس پی عامر ورک نے عدالت کو بتایا کہ گراؤنڈ فلور پر 16 دروازے موجود تھے، جس کے باعث وہاں جانی نقصان نہیں ہوا، تاہم بعض افراد نے لوہے کی کھڑکیاں نصب کر رکھی تھیں۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ بعض افراد آگ میں جھلس کر بھی جاں بحق ہوئے، اس لیے یہ کہنا درست نہیں کہ تمام اموات صرف دم گھٹنے سے ہوئیں۔
ڈی ایس پی عامر ورک کے مطابق متعلقہ ادارے دکانداروں سے فیس وصول کرتے تھے اور ان کی ذمہ داری بھی بنتی ہے۔ عدالت کو بتایا گیا کہ سول ڈیفنس کو شاملِ تفتیش کرلیا گیا ہے اور سول ڈیفنس کے دو افسران کے بیانات بھی ریکارڈ کیے جاچکے ہیں۔
دورانِ سماعت وکیلِ صفائی نے اعتراض کیا کہ چالان کے مندرجات سے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے تفتیشی افسر نے نتیجہ پہلے ہی اخذ کرلیا ہو۔ عدالت نے بھی استفسار کیا کہ اگر سرکاری اداروں کو مقدمے میں ملزم بنانا تھا تو انہیں چالان میں شامل کیوں نہیں کیا گیا۔
تنویر پاستا نے عدالت میں اپنے اوپر عائد الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے متعلقہ اداروں سے رابطہ کیا تھا اور سوال اٹھایا کہ ان کا جرم کیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بعض افراد کئی گھنٹوں تک زندہ تھے اور ان کے متعدد ساتھی بھی جاں بحق ہوئے، تاہم ان کے مطابق چالان میں ان پہلوؤں کو مناسب طور پر شامل نہیں کیا گیا۔
تنویر پاستا نے مزید دعویٰ کیا کہ فائر بریگیڈ کی اسنارکل مبینہ طور پر خراب ہوگئی تھی اور اگر وہ بروقت کام کرتی تو مزید جانیں بچائی جاسکتی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں نے انہیں بھی موقع سے بچایا، ورنہ وہ خود بھی جاں بحق ہوسکتے تھے۔
عدالت میں بیان کے دوران تنویر پاستا اور دیگر ملزمان جذباتی ہوگئے اور رو پڑے۔ تنویر پاستا نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ان کی سفارش پر متاثرین میں **7 ارب روپے سے زائد** رقم تقسیم کی گئی۔
عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد مزید کارروائی 18 ستمبر تک ملتوی کردی۔
### انسانی حقوق اور عوامی مفاد
گل پلازہ جیسے بڑے سانحات میں ذمہ داری کا تعین شفاف، غیر جانب دار اور مکمل تفتیش کی بنیاد پر ہونا ضروری ہے۔ متاثرین اور جاں بحق افراد کے اہلِ خانہ کو انصاف، معاوضے اور حقائق تک رسائی کا حق حاصل ہے، جبکہ کسی بھی فرد یا ادارے کو حتمی عدالتی فیصلے سے قبل مجرم قرار دینا مناسب نہیں۔ عمارتوں کی فائر سیفٹی، ہنگامی راستوں، فائر بریگیڈ کی صلاحیت اور سرکاری نگرانی سے متعلق سوالات کی بھی قانون کے مطابق غیر جانب دارانہ جانچ ضروری ہے۔
### HRNW Support Appeal
انسانی حقوق، عوامی مفاد اور آزاد صحافتی رپورٹنگ کے فروغ کے لیے HRNW کی معاونت کریں:
[HRNW Support Appeal](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)
### Disclaimer
اس خبر میں عدالت میں پیش کیے گئے پراسیکیوشن، وکیلِ صفائی، تفتیشی افسر اور ملزم کے مؤقف کو ان سے منسوب کرکے بیان کیا گیا ہے۔ کسی بھی فریق کے الزام یا دعوے کو حتمی عدالتی فیصلہ تصور نہ کیا جائے۔ مقدمے میں ذمہ داری اور قانونی حیثیت کا حتمی تعین عدالت کرے گی۔


