**کراچی — (ایچ آراین ڈبلیو)**سندھ میں بلدیاتی نظام سے متعلق **مجوزہ ترامیم 2026** کے تحت بلدیاتی نمائندوں کے اختیارات اور ذمہ داریوں میں اضافے کی تجاویز سامنے آگئی ہیں۔
مجوزہ ترمیم کے مطابق اگلے بلدیاتی انتخابات تک موجودہ میئرز اور چیئرمین اپنے عہدوں پر برقرار رہیں گے، جبکہ موجودہ بلدیاتی نمائندوں کی مدت مکمل ہونے کے بعد بھی میئر اور چیئرمین اپنے متعلقہ اداروں میں بطور ایڈمنسٹریٹر فرائض انجام دیتے رہیں گے۔
مجوزہ ترامیم میں **یونین کمیٹی کے چیئرمین کو اپنے علاقے میں غیرقانونی تعمیرات کی نشاندہی** کرنے کا اختیار دینے کی تجویز بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ یونین کمیٹیوں اور کونسلوں کو اپنے علاقوں میں کچرے اور صفائی ستھرائی کے مسائل کی بروقت نشاندہی کرکے متعلقہ اداروں کو آگاہ کرنے کا پابند بنانے کی تجویز دی گئی ہے۔
مجوزہ ترمیم میں پولیس اور بلدیاتی نمائندوں کے درمیان رابطے کے لیے نیا طریقہ کار متعارف کرانے کی بھی تجویز ہے۔ اس کے تحت سندھ بھر کے تھانوں کے **ایس ایچ اوز** کو مقامی سطح پر عوامی تحفظ، امن و امان اور مؤثر پولیسنگ سے متعلق معاملات میں متعلقہ بلدیاتی نمائندوں سے رابطے میں رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔
مجوزہ شق کے مطابق **ایس ایس پی** مؤثر پولیسنگ کے لیے ضلعی کونسل کے چیئرمین یا متعلقہ کارپوریشن کے میئر سے رابطہ کرے گا، جبکہ تھانے کا ایس ایچ او اپنے علاقے میں عوامی تحفظ اور امن و امان سے متعلق معاملات پر متعلقہ یونین کمیٹی کے چیئرمین سے رابطے میں رہے گا۔
یوں مجوزہ بلدیاتی ترامیم 2026 کے تحت میئر، چیئرمین اور یونین کمیٹی کے نمائندوں کو شہری مسائل کی نگرانی کے ساتھ ساتھ مقامی سطح پر امن و امان اور عوامی تحفظ کے معاملات میں بھی زیادہ فعال کردار دینے کی راہ ہموار کرنے کی تجویز سامنے آئی ہے۔
### انسانی حقوق اور عوامی مفاد
مؤثر بلدیاتی نظام شہریوں کو بنیادی سہولیات، صفائی، تعمیراتی نظم و ضبط اور مقامی مسائل کے بروقت حل میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ اختیارات میں اضافے کے ساتھ شفافیت، قانونی حدود، اداروں کے درمیان واضح ذمہ داریوں اور شہریوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانا بھی ضروری ہوگا۔
### HRNW Support Appeal
انسانی حقوق، عوامی آگاہی اور آزاد صحافتی رپورٹنگ کے فروغ کے لیے HRNW کی معاونت کریں:
[HRNW Support Appeal](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)
### Disclaimer
یہ خبر سندھ میں زیرِ غور **مجوزہ بلدیاتی ترامیم 2026** سے متعلق فراہم کردہ نکات کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ مذکورہ تجاویز کو حتمی قانون یا نافذ العمل شقیں تصور نہ کیا جائے۔ حتمی اختیارات، ذمہ داریوں اور مدت سے متعلق صورتحال متعلقہ سرکاری نوٹیفکیشن، منظور شدہ قانون یا حتمی قانونی مسودے کے اجرا کے بعد واضح ہوگی۔


