**کراچی — (ایچ آراین ڈبلیو)**رکنِ سندھ اسمبلی اور پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما **سجاد علی سومرو** نے سندھ اسمبلی کے فلور پر پی ٹی آئی کارکنوں کے ساتھ مبینہ تشدد اور بدسلوکی کے معاملے پر شدید احتجاج کرتے ہوئے ذمہ دار پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
سجاد علی سومرو نے کہا کہ سہیل آفریدی کی کراچی آمد کے موقع پر پی ٹی آئی کارکنوں کے ساتھ پولیس کی جانب سے مبینہ تشدد اور بربریت کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ کارکنوں کے ساتھ مبینہ طور پر ناروا سلوک کیا گیا۔
انہوں نے ایک خاتون کے گلے سے مبینہ طور پر دوپٹہ اور پی ٹی آئی مفلر کھینچنے کے واقعے کا بھی ذکر کیا، جبکہ پی ٹی آئی کراچی کابینہ کے ارکان **راؤ اعظم اور عقیل اعوان** کے ساتھ مبینہ تشدد کا دعویٰ بھی کیا۔
سجاد علی سومرو کے مطابق مبینہ تشدد کے نتیجے میں ایک کارکن کی ٹانگ ٹوٹ گئی جبکہ دوسرے کارکن کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
پی ٹی آئی رہنما نے مطالبہ کیا کہ متعلقہ ایس ایچ اوز **شوکت اعوان اور وقار عظیم** کو فوری طور پر معطل کیا جائے اور وزیرِ داخلہ معاملے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے مبینہ طور پر ذمہ دار پولیس اہلکاروں کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کریں۔
سجاد علی سومرو نے کہا کہ پی ٹی آئی کارکنوں کے ساتھ ہونے والی مبینہ زیادتی کا حساب ہر صورت لیا جائے گا اور کسی کو بھی قانون سے بالاتر نہیں سمجھا جائے گا۔
### انسانی حقوق اور عوامی مفاد
سیاسی سرگرمیوں اور احتجاج کے دوران ہر شہری کو قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے پُرامن اجتماع اور اظہارِ رائے کا حق حاصل ہے۔ پولیس اور سیاسی کارکنوں کے درمیان کسی بھی مبینہ تشدد یا بدسلوکی کے معاملے کی غیر جانب دارانہ تحقیقات ضروری ہیں تاکہ حقائق سامنے آسکیں اور اگر خلاف ورزی ثابت ہو تو ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جا سکے۔
### HRNW Support Appeal
انسانی حقوق، جمہوری اقدار، عوامی آگاہی اور آزاد صحافتی رپورٹنگ کے فروغ کے لیے HRNW کی معاونت کریں:
[HRNW Support Appeal](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)
### Disclaimer
یہ خبر رکنِ سندھ اسمبلی سجاد علی سومرو کے بیان اور فراہم کردہ معلومات کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ تشدد، بدسلوکی یا پولیس اہلکاروں کے خلاف عائد الزامات کی آزادانہ تصدیق اس خبر میں نہیں کی گئی۔ حتمی حقائق کا تعین متعلقہ تحقیقات اور قانونی کارروائی کے بعد ہوگا۔


