27

آگ لگتی ہے یا لگائی جاتی ہے، اب یہ الزام نہ لگ جائے کہ ریکارڈ جل گیا: میئر کراچی مرتضیٰ وہاب

کراچی (ایچ آراین ڈبلیو) میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے کے ایم سی (KMC) ہیڈ آفس میں پیش آنے والے آتشزدگی کے واقعے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ آگ اچانک لگتی ہے یا لگائی جاتی ہے، اس کی اصلیت مکمل اور شفاف تحقیقات کے بعد ہی سامنے آئے گی۔

کے ایم سی ہیڈ آفس میں آتشزدگی پر گفتگو کرتے ہوئے میئر کراچی نے وضاحت کی کہ ان کے پاس جو فائلیں آتی ہیں وہ بغیر دستخط شدہ ہوتی ہیں، جبکہ دستخط کے بعد تمام فائلیں متعلقہ افسران کے دفاتر تک منتقل کر دی جاتی ہیں۔ انہوں نے کہا، “میں بلاوجہ الزامات سے گریز کرتا ہوں، ایسا نہ ہو کہ اب یہ الزام بھی سامنے آ جائے کہ کوئی اہم ریکارڈ جل کر خاکستر ہو گیا ہے۔”

مرتضیٰ وہاب نے مزید بتایا کہ واقعے کی تہہ تک پہنچنے اور آگ لگنے کے اسباب معلوم کرنے کے لیے چیف فائر آفیسر کو فوری طور پر تحقیقات کا ٹاسک دے دیا گیا ہے۔

شفافیت اور انسانی حقوق کا زاویہ
عوامی و سرکاری دفاتر کا ریکارڈ اور اثاثے عوامی ملکیت ہوتے ہیں جن کی حفاظت کو یقینی بنانا متعلقہ اداروں کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ سرکاری عمارتوں میں آتشزدگی کے واقعات اور ریکارڈ کے تحفظ سے متعلق تحفظات عوامی شفافیت اور معلومات تک رسائی کے بنیادی حق (Right to Information) پر سوالات اٹھاتے ہیں۔ اس طرح کے واقعات کی فوری، غیر جانبدارانہ اور شفاف تحقیقات نہ صرف عوامی اعتماد کی بحالی بلکہ مستقبل میں حادثات کی روک تھام کے لیے بھی لازمی ہیں۔

HRNW Support Appeal
انسانی حقوق، عوامی مفاد اور آزاد صحافت کے لیے ایچ آراین ڈبلیو کی معاونت کریں:
HRNW Support Appeal

Disclaimer: یہ خبر میئر کراچی مرتضیٰ وہاب کی میڈیا سے گفتگو اور ابتدائی سرکاری اعلانات کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ آتشزدگی کی وجوہات اور نقصان کی حتمی تفصیلات فائربریگیڈ اور تحقیقاتی کمیٹی کی حتمی رپورٹ کے بعد واضح ہوں گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں