کراچی (ایچ آراین ڈبلیو) متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے سینئر مرکزی رہنما، رکن قومی اسمبلی اور ڈپٹی پارلیمانی لیڈر ڈاکٹر فاروق ستار نے شہر قائد میں حد سے بڑھتے ہوئے اسٹریٹ کرائمز پر شدید تشویش اور برہمی کا اظہار کیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق، ڈاکٹر فاروق ستار نے منگھوپیر کے علاقے میں ڈکیتی کی واردات کے دوران 8 بہنوں کے اکلوتے بھائی، ایک کمسن نوجوان کے بے دردی سے قتل کے واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ ایک نوجوان کا اس طرح بے دردی سے مارا جانا صرف ایک خاندان کا صدمہ نہیں بلکہ پورے معاشرے کے لیے ایک بڑا سانحہ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ کراچی میں ڈاکوؤں کا راج قائم ہو چکا ہے اور شہریوں کی جان و مال غیر محفوظ ہے۔ عوام اپنے گھروں سے نکلتے ہوئے بھی خوف کا شکار ہیں، جو کسی بھی مہذب معاشرے کے لیے نا قابلِ قبول صورتحال ہے۔
ڈاکٹر فاروق ستار نے نشاندہی کی کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی، بے روزگاری، معاشی مشکلات، قانون کی کمزور عمل داری اور غیر مقامی افراد کے اندراج و نگرانی کے نظام کا نہ ہونا شہر میں جرائم کی شرح بڑھانے کی بنیادی وجوہات ہیں۔ انہوں نے حکومتِ سندھ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کیا کہ ملزمان کو فوری گرفتار کر کے عبرتناک سزا دی جائے اور اسٹریٹ کرائمز کا قلع قمع کیا جائے۔
انسانی حقوق کا زاویہ
شہریوں کی جان و مال اور سلامتی کا تحویل و تحفظ کسی بھی ریاست کی آئینی و اخلاقی بنیادی ذمہ داری ہے۔ اسٹریٹ کرائم کے مسلسل واقعات شہریوں سے ان کا بنیادی حقِ زندگی چھین رہے ہیں۔ حکومت اور امن و امان کے ضامن اداروں کو محض بیانات تک محدود رہنے کے بجائے جرائم کے خاتمے، شفاف انویسٹی گیشن اور قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر عملی اقدامات کرنے ہوں گے۔
HRNW Support Appeal
انسانی حقوق، عوامی مفاد اور آزاد صحافت کے لیے ایچ آراین ڈبلیو کی معاونت کریں:
HRNW Support Appeal
Disclaimer: یہ خبر ڈاکٹر فاروق ستار کے جاری کردہ بیان اور مقامی پولیس و میڈیا سے موصولہ ابتدائی معلومات کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ واقعے کی قانونی تحقیقات اور گرفتاریوں سے متعلق حتمی صورتحال پولیس کی سرکاری پیش رفت سے واضح ہوگی۔


