26

ریبیز کے علاج میں مبینہ غفلت، محکمہ صحت کے 7 افسران معطل

ریبیز کے علاج میں مبینہ غفلت، محکمہ صحت کے 7 افسران معطل

**کراچی: (ایچ آراین ڈبلیو)** — چیف سیکریٹری سندھ کی زیرِ صدارت اینٹی ریبیز پروگرام کا فالو اَپ اجلاس ہوا، جس کے دوران ریبیز کے مریضوں کے علاج میں مبینہ غفلت پر محکمہ صحت کے 7 افسران کو معطل کردیا گیا۔

معطل کیے جانے والوں میں تین میڈیکل افسران، ایک خاتون میڈیکل افسر اور تین دیگر پیرامیڈکس شامل ہیں۔

چیف سیکریٹری سندھ کی جانب سے ضلع ٹنڈو محمد خان میں تعینات ڈاکٹر نوید الرحمٰن، ڈاکٹر غلام اظہر، ٹی ایچ کیو اسپتال ٹنڈو غلام حیدر کی ڈاکٹر پارس، فرزانہ بلوچ، شازیہ خادم، اینٹی ریبیز سینٹر شاہ بھٹائی اسپتال لطیف آباد کے ڈاکٹر ارباز انہر انصاری اور شاہ بھٹائی اسپتال حیدرآباد کے ڈسپنسر محمد ارشد کو معطل کیا گیا۔

ریبیز کے شکار مریضوں کی دیکھ بھال میں مبینہ کوتاہی پر متعدد سینئر طبی و انتظامی حکام سے وضاحت بھی طلب کرلی گئی ہے۔

لیاقت یونیورسٹی اسپتال حیدرآباد کے ایم ایس، ڈی ایچ او ٹنڈو محمد خان، شاہداد پور انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر، ڈی ایچ کیو ٹنڈو الہیار اور تعلقہ اسپتال کوٹری کے ایم ایس سے بھی جواب طلب کیا گیا ہے۔

انسانی حقوق اور عوامی مفاد

ریبیز ایک خطرناک اور جان لیوا بیماری ہے، جس میں بروقت طبی امداد اور ویکسین کی فراہمی انتہائی اہم ہوتی ہے۔ شہریوں کو بروقت اور معیاری طبی سہولیات فراہم کرنا ان کے بنیادی انسانی حقوق میں شامل ہے۔ سرکاری اسپتالوں میں علاج کے دوران مبینہ غفلت کی شفاف تحقیقات اور ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کے ساتھ ساتھ مریضوں کے لیے مؤثر طبی سہولیات یقینی بنانا ضروری ہے۔

HRNW Support Appeal

**Human Rights News Worldwide (HRNW)** انسانی حقوق، صحت، انصاف اور عوامی مفاد سے متعلق اہم معاملات کو اجاگر کرنے کے لیے کام کرتا ہے۔ HRNW کی صحافتی اور انسانی حقوق کی سرگرمیوں کو جاری رکھنے کے لیے آپ کا تعاون اہم ہے۔

**HRNW کو سپورٹ کرنے کے لیے:**
[https://www.hrnww.com/?page_id=1083](https://www.hrnww.com/?page_id=1083)

Disclaimer

یہ خبر فراہم کردہ معلومات کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ خبر میں بیان کردہ غفلت یا کوتاہی کے الزامات متعلقہ حکام کی کارروائی اور فراہم کردہ معلومات سے منسوب ہیں۔ حتمی ذمہ داری کا تعین متعلقہ تحقیقات اور قانونی کارروائی کے بعد ہوگا۔ HRNW غیر مصدقہ دعووں کی آزادانہ تصدیق کا ذمہ دار نہیں۔

**کراچی: (ایچ آراین ڈبلیو)** — چیف سیکریٹری سندھ کی زیرِ صدارت اینٹی ریبیز پروگرام کا فالو اَپ اجلاس ہوا، جس کے دوران ریبیز کے مریضوں کے علاج میں مبینہ غفلت پر محکمہ صحت کے 7 افسران کو معطل کردیا گیا۔

معطل کیے جانے والوں میں تین میڈیکل افسران، ایک خاتون میڈیکل افسر اور تین دیگر پیرامیڈکس شامل ہیں۔

چیف سیکریٹری سندھ کی جانب سے ضلع ٹنڈو محمد خان میں تعینات ڈاکٹر نوید الرحمٰن، ڈاکٹر غلام اظہر، ٹی ایچ کیو اسپتال ٹنڈو غلام حیدر کی ڈاکٹر پارس، فرزانہ بلوچ، شازیہ خادم، اینٹی ریبیز سینٹر شاہ بھٹائی اسپتال لطیف آباد کے ڈاکٹر ارباز انہر انصاری اور شاہ بھٹائی اسپتال حیدرآباد کے ڈسپنسر محمد ارشد کو معطل کیا گیا۔

ریبیز کے شکار مریضوں کی دیکھ بھال میں مبینہ کوتاہی پر متعدد سینئر طبی و انتظامی حکام سے وضاحت بھی طلب کرلی گئی ہے۔

لیاقت یونیورسٹی اسپتال حیدرآباد کے ایم ایس، ڈی ایچ او ٹنڈو محمد خان، شاہداد پور انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر، ڈی ایچ کیو ٹنڈو الہیار اور تعلقہ اسپتال کوٹری کے ایم ایس سے بھی جواب طلب کیا گیا ہے۔

انسانی حقوق اور عوامی مفاد

ریبیز ایک خطرناک اور جان لیوا بیماری ہے، جس میں بروقت طبی امداد اور ویکسین کی فراہمی انتہائی اہم ہوتی ہے۔ شہریوں کو بروقت اور معیاری طبی سہولیات فراہم کرنا ان کے بنیادی انسانی حقوق میں شامل ہے۔ سرکاری اسپتالوں میں علاج کے دوران مبینہ غفلت کی شفاف تحقیقات اور ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کے ساتھ ساتھ مریضوں کے لیے مؤثر طبی سہولیات یقینی بنانا ضروری ہے۔

HRNW Support Appeal

**Human Rights News Worldwide (HRNW)** انسانی حقوق، صحت، انصاف اور عوامی مفاد سے متعلق اہم معاملات کو اجاگر کرنے کے لیے کام کرتا ہے۔ HRNW کی صحافتی اور انسانی حقوق کی سرگرمیوں کو جاری رکھنے کے لیے آپ کا تعاون اہم ہے۔

**HRNW کو سپورٹ کرنے کے لیے:**
[https://www.hrnww.com/?page_id=1083](https://www.hrnww.com/?page_id=1083)

### Disclaimer

یہ خبر فراہم کردہ معلومات کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ خبر میں بیان کردہ غفلت یا کوتاہی کے الزامات متعلقہ حکام کی کارروائی اور فراہم کردہ معلومات سے منسوب ہیں۔ حتمی ذمہ داری کا تعین متعلقہ تحقیقات اور قانونی کارروائی کے بعد ہوگا۔ HRNW غیر مصدقہ دعووں کی آزادانہ تصدیق کا ذمہ دار نہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں