**لاہور (ایچ آراین ڈبلیو)** پنجاب اسمبلی سے منظور کیے گئے **انسداد دہشت گردی ترمیم بل 2026** کی منظوری کے خلاف لاہور ہائیکورٹ میں دائر درخواست پر سماعت کے دوران جسٹس امجد پرویز نے کیس سننے سے معذرت کرلی۔
درخواست ایڈووکیٹ **یوسف وائیں** کی جانب سے لاہور ہائیکورٹ میں دائر کی گئی ہے، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ **انسداد دہشت گردی ترمیم بل 2026 غیر قانونی اور آئین سے متصادم ہے۔**
سماعت کے دوران جسٹس امجد پرویز نے ریمارکس دیے کہ جب مذکورہ بل کی تیاری کی جا رہی تھی تو وہ اس وقت **ایڈووکیٹ جنرل پنجاب** کے عہدے پر فائز تھے، اس لیے وہ اس درخواست کی سماعت نہیں کر سکتے۔
جسٹس امجد پرویز کی جانب سے سماعت سے معذرت کے بعد عدالت نے کیس کی فائل واپس **چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ** کو ارسال کردی۔
درخواست گزار نے عدالت کے سامنے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ترمیمی قانون کے تحت دہشت گردی کے مقدمات کے ٹرائل کے دوران **جج، پراسیکیوشن اور گواہان کے نام اور چہرے ظاہر نہ کرنے** کی شق آئین کے منافی ہے۔
درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ لاہور ہائیکورٹ پنجاب اسمبلی سے منظور کیے گئے **انسداد دہشت گردی ترمیم بل 2026** کو غیر قانونی اور غیر آئینی قرار دے۔
### انسانی حقوق کا زاویہ
دہشت گردی کے مقدمات میں گواہوں، پراسیکیوشن اور عدالتی عملے کے تحفظ کے ساتھ ساتھ ملزمان کے **منصفانہ ٹرائل، شفاف عدالتی کارروائی اور دفاع کے مؤثر حق** کا تحفظ بھی بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ اس معاملے میں عدالت کا حتمی فیصلہ قانون اور آئینی تقاضوں کی تشریح کے حوالے سے اہمیت رکھتا ہے۔
### HRNW Support Appeal
انسانی حقوق، قانون کی حکمرانی اور عوامی مفاد کی آزاد صحافت کو جاری رکھنے کے لیے **Human Rights News Worldwide (HRNW)** کی معاونت کریں:
[HRNW Support Appeal](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)
### Disclaimer
یہ خبر فراہم کردہ معلومات اور درخواست گزار کے مؤقف کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ درخواست میں عائد کیے گئے قانونی اعتراضات حتمی عدالتی فیصلہ نہیں ہیں۔ معاملے کا حتمی تعین عدالت کے فیصلے سے ہوگا۔


