23

مذاکرات ناکام ہوئے تو ملک گیر پہیہ جام ہڑتال ہوگی، حکومت گرانے کی تحریک چلائیں گے: حافظ نعیم

**کراچی (ایچ آراین ڈبلیو)** امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے دھرنے کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر حکومت کے ساتھ جاری مذاکرات ناکام ہوئے تو ملک گیر **پہیہ جام ہڑتال** کی کال دی جائے گی۔

حافظ نعیم الرحمان کے مطابق ہڑتال کے دوران پٹرول پمپس، دکانیں اور گاڑیاں بند رکھنے کی اپیل کی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ اگر حکومت نے جماعت اسلامی کے مطالبات تسلیم نہ کیے تو **حکومت گرانے کی تحریک** شروع کی جائے گی۔

حافظ نعیم الرحمان نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پٹرولیم لیوی کے خلاف تحریک شروع ہونے کے بعد سے پٹرول کی قیمت میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے اس عرصے کے دوران پٹرول کی قیمت میں **33 روپے فی لیٹر** اضافہ کیا ہے۔

انہوں نے موجودہ سیاسی صورتحال پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت گرانے کی تحریک شروع کی گئی تو کیا موجودہ حکومت کو بغیر انتخابات کے مزید پانچ سال کے لیے عوام پر مسلط کیا جائے گا۔

### عوامی ردعمل

جماعت اسلامی کے احتجاج اور حکومت مخالف تحریک کے اعلان کے بعد سیاسی حلقوں میں یہ سوال زیر بحث ہے کہ آیا مذاکرات کے ذریعے معاملات حل ہوں گے یا احتجاجی تحریک ملک گیر ہڑتال کی جانب بڑھے گی۔

### انسانی حقوق کا زاویہ

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں اور ٹیکسز براہِ راست عام شہریوں کے سفری اخراجات، اشیائے ضروریہ کی قیمتوں اور گھریلو بجٹ پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ دوسری جانب احتجاج اور ہڑتال کے دوران عوام کے روزمرہ معمولات، کاروبار اور آمدورفت متاثر نہ ہوں، اس کے لیے تمام فریقین کو آئینی و قانونی حدود اور عوامی مفاد کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔

### HRNW Support Appeal

Human Rights News Worldwide (HRNW) آزادانہ صحافت، انسانی حقوق اور عوامی مفاد کے مسائل کو اجاگر کرنے کے لیے کام کرتا ہے۔ ہماری صحافتی سرگرمیوں کو جاری رکھنے میں آپ کا تعاون اہم ہے۔

[HRNW Support Appeal](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)

**ڈس کلیمر:** اس خبر میں سیاسی رہنما کی جانب سے دیے گئے بیانات اور دعوے ان سے منسوب کیے گئے ہیں۔ خبر میں شامل الزامات یا سیاسی دعووں کو آزادانہ طور پر ثابت شدہ حقائق قرار نہیں دیا گیا۔

**نوٹ:** آخری پیراگراف میں موجود “اسٹبلشمنٹ کی لاڈلی حکومت” والا جملہ خبر میں براہِ راست بطور حقیقت شامل کرنے کے بجائے سیاسی تبصرے کے طور پر محتاط انداز میں پیش کیا گیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں