30

لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے ججز کو سرکاری گاڑیوں کے استعمال سے متعلق نئی ہدایات

**لاہور (ایچ آراین ڈبلیو)** لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے جن ججز کو سرکاری گاڑیاں فراہم کی گئی ہیں، ان کے لیے گاڑیوں کے استعمال سے متعلق نئی ہدایات جاری کردی گئی ہیں۔

ذرائع کے مطابق ججز کو فراہم کی گئی گاڑیوں پر **گرین نمبر پلیٹ، نیلی لائٹ اور عدلیہ کا مونوگرام** استعمال کرنے سے روک دیا گیا ہے۔

پنجاب بھر کے ایڈیشنل سیشن ججز نے اپنے اپنے اضلاع کے متعلقہ ججز کو ان ہدایات سے آگاہ کردیا ہے، جبکہ سیشن جج لاہور کی جانب سے لاہور کے ایڈیشنل سیشن ججز اور سول ججز کو بھی نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا ہے۔

ہدایت کی گئی ہے کہ اگر کسی جج کی جانب سے ان احکامات پر عملدرآمد نہ کرنے کا علم ہوا تو متعلقہ جج کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

ذرائع کے مطابق سرکاری گاڑیوں کی معمول کی سرکاری مینٹیننس بھی فراہم نہیں کی جائے گی اور متعلقہ ججز کو گاڑیوں کی دیکھ بھال کے اخراجات خود برداشت کرنا ہوں گے۔

تاہم تنخواہ کے ساتھ ملنے والا مقررہ پٹرول الاؤنس بدستور فراہم کیا جائے گا اور اس کے علاوہ اضافی سہولیات دستیاب نہیں ہوں گی۔

## انسانی حقوق اور عوامی مفاد کا زاویہ

سرکاری گاڑیوں اور سرکاری وسائل کے استعمال کے حوالے سے واضح قواعد و ضوابط اداروں میں شفافیت، احتساب اور عوامی اعتماد کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ عدلیہ سے وابستہ سرکاری سہولیات کے استعمال میں یکساں اور واضح پالیسی پر عملدرآمد ادارہ جاتی نظم و ضبط کے لیے بھی ضروری ہے۔

## HRNW Support Appeal

انسانی حقوق، قانون کی حکمرانی اور عوامی مفاد سے متعلق آزاد صحافت کے لیے **ایچ آراین ڈبلیو** کی معاونت کریں:

[HRNW Support Appeal](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)

**Disclaimer:** یہ خبر فراہم کردہ معلومات اور ذرائع سے منسوب تفصیلات کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ متعلقہ ہدایات اور نوٹیفکیشن کی حتمی قانونی و انتظامی حیثیت متعلقہ ادارے کی باضابطہ دستاویزات سے ہی واضح ہوگی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں