23

نارتھ ناظم آباد میں مبینہ غیر قانونی تعمیرات، متعدد مقامات کی تصاویر سامنے آگئیں

**کراچی (ایچ آراین ڈبلیو)** کراچی کے علاقے نارتھ ناظم آباد میں مبینہ غیر قانونی تعمیرات کے حوالے سے مختلف مقامات کی تصاویر سامنے آئی ہیں، جن میں بلاکس C اور D کے متعدد مکانات میں اضافی منزلوں، غیر منظور شدہ تعمیرات اور منظور شدہ نقشوں سے ممکنہ تجاوزات کے خدشات ظاہر کیے گئے ہیں۔

دستیاب تصاویر میں **A340 بلاک C، A332 بلاک C، C49 بلاک C، A325 بلاک D، B90 بلاک D، A381 بلاک D اور SC06 بلاک D** سمیت مختلف مقامات پر تعمیراتی سرگرمیاں اور موجودہ تعمیرات نمایاں ہیں۔

شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر مذکورہ تعمیرات منظور شدہ بلڈنگ پلان، قانونی اجازت ناموں اور متعلقہ قوانین کے مطابق نہیں تو معاملہ فوری توجہ کا متقاضی ہے۔ ان کے مطابق بے ہنگم یا غیر منظور شدہ تعمیرات سے سیوریج، پانی، بجلی، گیس، پارکنگ، ٹریفک اور دیگر بنیادی شہری سہولیات پر اضافی دباؤ پیدا ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔

## متعلقہ حکام سے فوری تحقیقات کا مطالبہ

اس معاملے پر **ڈائریکٹر جنرل سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (SBCA)، ڈائریکٹر سینٹرل، ڈپٹی ڈائریکٹر اور متعلقہ بلڈنگ انسپکٹر** سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ تصاویر میں نشاندہی کیے گئے تمام مقامات کا موقع پر معائنہ کیا جائے۔

ہر عمارت کے حوالے سے منظور شدہ نقشہ، بلڈنگ پرمٹ، منظور شدہ منزلوں کی تعداد اور موقع پر موجود تعمیرات کا ریکارڈ باقاعدہ طور پر چیک کیا جائے تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ تعمیرات قانونی منظوری کے مطابق ہیں یا نہیں۔

اسی طرح **ڈپٹی کمشنر ضلع وسطی، متعلقہ اسسٹنٹ کمشنر اور ضلعی انتظامیہ** سے بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ اداروں سے رپورٹ طلب کی جائے۔

اگر کسی مقام پر تعمیرات قوانین، منظور شدہ نقشے یا اجازت نامے کی خلاف ورزی میں پائی جائیں تو قانون کے مطابق کارروائی کی جائے، جبکہ غیر قانونی ثابت ہونے والے حصوں کے خلاف متعلقہ قانونی طریقہ کار اختیار کیا جائے اور ذمہ دار عناصر کا تعین کیا جائے۔

### شفاف تحقیقات کیوں ضروری ہیں؟

نارتھ ناظم آباد جیسے گنجان آباد علاقوں میں تعمیراتی قوانین کی پابندی صرف عمارت کی منظوری تک محدود نہیں بلکہ شہریوں کی زندگی، محفوظ رہائش، بنیادی سہولیات اور ماحول سے بھی براہِ راست جڑی ہوئی ہے۔

اس لیے ضروری ہے کہ کسی بھی عمارت کو صرف تصاویر یا ظاہری شکل کی بنیاد پر غیر قانونی قرار دینے کے بجائے متعلقہ سرکاری ریکارڈ، منظور شدہ نقشے اور موقع پر موجود تعمیرات کا تقابلی جائزہ لیا جائے۔

واضح رہے کہ **تصاویر کی بنیاد پر کسی بھی مذکورہ تعمیر کو حتمی طور پر غیر قانونی قرار نہیں دیا جا رہا** بلکہ متعلقہ سرکاری اداروں سے شفاف تحقیقات اور ہر عمارت کی قانونی حیثیت واضح کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

## اہم سوال

متعلقہ حکام سے سوال ہے کہ **نارتھ ناظم آباد کے ان نشاندہی کیے گئے مقامات پر تعمیرات کی باقاعدہ جانچ کب کی جائے گی، اور شہریوں کو ہر عمارت کی قانونی حیثیت سے کب آگاہ کیا جائے گا؟**

## انسانی حقوق کا زاویہ

محفوظ رہائش، بنیادی شہری سہولیات اور صحت مند شہری ماحول شہریوں کے بنیادی حقوق سے جڑے معاملات ہیں۔ تعمیراتی قوانین پر مؤثر عمل درآمد نہ ہونے کی صورت میں شہری آبادی کو طویل مدتی مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ تاہم کسی بھی شہری یا مالک کے خلاف کارروائی سے قبل شفاف تحقیقات، ریکارڈ کی جانچ اور قانونی تقاضوں کی تکمیل ضروری ہے۔

## HRNW Support Appeal

انسانی حقوق، شہری مسائل اور عوامی مفاد کے معاملات کی آزادانہ صحافتی کوریج جاری رکھنے کے لیے **ہیومن رائٹس نیوز ورلڈ وائیڈ (HRNW)** کی معاونت کریں:

[HRNW Support Appeal](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)

### ڈس کلیمر

یہ خبر دستیاب تصاویر، شہری حلقوں کے خدشات اور تحقیقات کے مطالبے پر مبنی ہے۔ تصاویر کی بنیاد پر کسی عمارت یا فرد کو حتمی طور پر غیر قانونی یا قانون شکنی کا مرتکب قرار نہیں دیا جا رہا۔ مذکورہ تعمیرات کی قانونی حیثیت کا حتمی تعین متعلقہ سرکاری اداروں کے ریکارڈ، معائنے اور قانونی کارروائی کے بعد ہی ممکن ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں