42

11 ماہ میں IPPs کو 27 کھرب سے زائد ادائیگیاں، بجلی کے شعبے کے بڑے کاروباری گروپس کون سے ہیں؟

**اسلام آباد (ایچ آراین ڈبلیو)** — پاکستان کے بجلی کے شعبے میں **انڈیپنڈنٹ پاور پروڈیوسرز (IPPs)** کو ہونے والی اربوں روپے کی ادائیگیاں ایک بار پھر عوامی اور سیاسی بحث کا مرکز بن گئی ہیں۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق 11 ماہ کے دوران IPPs کو **انرجی پیمنٹس کی مد میں 11 کھرب 68 ارب روپے** جبکہ **کیپسٹی پیمنٹس کی مد میں 15 کھرب 65 ارب روپے** ادا کیے گئے، یوں دونوں مدوں میں مجموعی ادائیگی تقریباً **27 کھرب 33 ارب روپے** بنتی ہے۔

یہاں بنیادی سوال صرف یہ نہیں کہ اتنی بڑی رقم کیوں ادا کی گئی، بلکہ یہ بھی ہے کہ ان ادائیگیوں سے فائدہ اٹھانے والی پاور کمپنیوں کے پیچھے کون سے بڑے کاروباری گروپس اور خاندان موجود ہیں، اور ان کا پاکستان کی معیشت اور سیاست میں کیا اثر و رسوخ ہے۔

## IPPs کیا ہیں اور کیپسٹی پیمنٹ کیوں دی جاتی ہے؟

IPPs وہ نجی بجلی گھر ہیں جو حکومت یا سرکاری پاور پرچیزنگ اداروں کے ساتھ معاہدوں کے تحت بجلی پیدا کرتے ہیں۔ ان معاہدوں میں بعض صورتوں میں **Capacity Payment** یعنی پیداواری صلاحیت دستیاب رکھنے کی ادائیگی شامل ہوتی ہے، جبکہ **Energy Payment** پیدا ہونے والی بجلی اور متعلقہ اخراجات سے منسلک ہوتی ہے۔

پاکستان میں بجلی کی طلب میں کمی، مہنگے ایندھن، ڈالر سے منسلک معاہدوں اور بجلی گھروں کی مجموعی پیداواری صلاحیت کے مقابلے میں کم استعمال نے Capacity Payments کو ایک بڑا مالی مسئلہ بنا دیا ہے۔ IEEFA نے بھی پاکستان کے پاور سیکٹر میں Capacity Payments کو ایک بڑے مالی بحران کے طور پر اجاگر کیا ہے۔

## کن بڑے کاروباری گروپس کے IPPs ہیں؟

### 1۔ میاں منشا — نشاط گروپ

پاکستان کے سب سے بڑے کاروباری گروپس میں شامل **نشاط گروپ** بجلی کے شعبے میں بھی نمایاں موجودگی رکھتا ہے۔

**Nishat Power، Nishat Chunian Power، Lalpir Power اور Pakgen Power** سمیت متعدد پاور کمپنیوں کا تعلق نشاط گروپ اور اس سے منسلک کاروباری مفادات سے ہے۔

پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے ریکارڈ کے مطابق **Lalpir Power** کے چیئرمین میاں حسن منشا ہیں، جبکہ **Pakgen Power** کے CEO بھی میاں حسن منشا ہیں۔ ایک حالیہ PSX فائلنگ میں میاں محمد منشا، ان کے خاندان اور متعلقہ افراد کو گروپ کے ultimate beneficial owners کے طور پر درج کیا گیا ہے۔

**اہم وضاحت:** میاں محمد منشا ایک معروف کاروباری شخصیت ہیں؛ دستیاب ان ریکارڈز کی بنیاد پر انہیں کسی سیاسی جماعت کا سیاست دان قرار دینا درست نہیں۔

### 2۔ HUBCO — میگا/حب گروپ

**The Hub Power Company (HUBCO)** پاکستان کے بڑے IPPs میں شمار ہوتی ہے۔

HUBCO کی 2025 کی سالانہ رپورٹ کے مطابق کمپنی کے چیئرمین **محمد حبیب اللہ خان** ہیں، جو Mega Conglomerate کے بانی اور چیئرمین بھی ہیں۔ رپورٹ میں Mega Group کی توانائی، کان کنی، تیل و گیس اور دیگر شعبوں میں سرمایہ کاری کا ذکر موجود ہے۔

HUBCO کے مختلف منصوبوں میں Narowal Energy، Laraib Energy، Thar Energy اور دیگر منصوبے شامل رہے ہیں۔

### 3۔ Sapphire Group

**Sapphire Electric Company** اور متعلقہ پاور منصوبے **Sapphire Group** کے کاروباری مفادات سے منسلک ہیں۔

Sapphire Textile Mills کی 2024-25 سالانہ رپورٹ میں Sapphire Power Generation اور Sapphire Electric Company سمیت متعدد متعلقہ کمپنیوں کا ذکر موجود ہے۔

یہاں بھی دستیاب کارپوریٹ ریکارڈ کاروباری ملکیت اور وابستگی کو ظاہر کرتے ہیں؛ اسے براہ راست کسی سیاسی جماعت یا سیاست دان کی ملکیت قرار دینا الگ ثبوت کا تقاضا کرتا ہے۔

### 4۔ Liberty Group — Mukaty خاندان

**Liberty Power Tech** پاکستان کے نمایاں IPPs میں شامل ہے۔

PACRA کے مطابق Liberty Power Tech کی ملکیت میں **Mukaty Family کا 61 فیصد، Liberty Mills Limited کا 29 فیصد اور Soorty Enterprises کا 10 فیصد** حصہ ہے۔

NEPRA سے متعلق دستاویز میں بھی Liberty Group کو Mukaty خاندان سے منسلک کیا گیا ہے۔

Liberty Group کے پاور سیکٹر میں Liberty Power Tech، Liberty Thar Power اور دیگر منصوبے شامل ہیں۔

### 5۔ Saigol Family — Kohinoor Energy

**Kohinoor Energy Limited** کا تعلق **Saigol خاندان** سے ہے۔

PACRA کی مارچ 2026 کی رپورٹ کے مطابق Saigol family کمپنی کی تقریباً **62 فیصد** حصص کی principal shareholder ہے۔

Kohinoor Energy کے اپنے کارپوریٹ ریکارڈ کے مطابق میاں نسیم سیگل چیئرمین اور محمد زید یوسف سیگل CEO ہیں۔ کمپنی اپنی تاریخ میں Saigol خاندان کو پاکستان کے بڑے صنعتی خاندانوں میں شمار کرتی ہے۔

### 6۔ Atlas Group — Shirazi خاندان

**Atlas Power** بھی IPP فہرست میں شامل ہے۔ CPPA-G کی سرکاری فہرست میں Atlas Power کو باقاعدہ IPP کے طور پر درج کیا گیا ہے۔

Atlas Group کی دستاویزات کے مطابق اس گروپ کی بنیاد **یوسف ایچ شیرازی** نے رکھی تھی اور گروپ کے کاروبار میں پاور جنریشن بھی شامل ہے۔ موجودہ قیادت میں شیرازی خاندان کے افراد شامل ہیں۔

### 7۔ Gul Ahmed Group

**Gul Ahmed Wind Power** بھی CPPA-G کی IPP فہرست میں شامل ہے۔

Gul Ahmed ایک بڑا پاکستانی صنعتی اور ٹیکسٹائل گروپ ہے جس کے کاروباری مفادات میں توانائی بھی شامل رہی ہے۔ کمپنی اپنی سالانہ مالیاتی رپورٹس میں اپنے کارپوریٹ ڈھانچے اور مالی سرگرمیوں کی تفصیلات فراہم کرتی ہے۔

### 8۔ Attock Group

**Attock Gen Limited** بھی IPP فہرست میں شامل ہے۔ CPPA-G کے ریکارڈ میں Attock Gen کو باقاعدہ پاور پروڈیوسر کے طور پر درج کیا گیا ہے۔

Attock Group کے سالانہ ریکارڈ میں Attock Gen کو گروپ کے پاور سیکٹر کے منصوبے کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔

### 9۔ Engro / Dawood Group

پاکستان کے پاور سیکٹر میں **Engro Powergen** سے وابستہ منصوبے بھی اہم ہیں۔ Dawood Hercules کی کارپوریٹ دستاویزات میں Engro Energy اور Engro Powergen Thar سمیت مختلف توانائی کمپنیوں کا ذکر موجود ہے۔

یہ شعبہ Dawood/Engro کاروباری مفادات کے وسیع نیٹ ورک سے منسلک رہا ہے۔

## کیا یہ تمام IPPs سیاست دانوں کی ملکیت ہیں؟

**نہیں۔ یہ تاثر درست نہیں کہ تمام IPPs براہ راست سیاست دانوں کی ملکیت ہیں۔**

دستیاب سرکاری، PSX اور کمپنی ریکارڈ سے زیادہ واضح تصویر یہ سامنے آتی ہے کہ متعدد IPPs بڑے **کاروباری خاندانوں اور صنعتی گروپس** کے زیر اثر ہیں، جن میں:

* **Mansha / Nishat Group**
* **Mega / Habibullah Khan Group**
* **Mukaty / Liberty Group**
* **Saigol Family**
* **Shirazi / Atlas Group**
* **Sapphire Group**
* **Gul Ahmed Group**
* **Attock Group**
* **Dawood / Engro Group**

شامل ہیں۔

CPPA-G کی سرکاری IPP فہرست میں اس کے علاوہ بھی متعدد کمپنیاں شامل ہیں، جن میں Uch Power، Rousch، Saba Power، Tapal Energy، Fauji Kabirwala، Orient Power، Saif Power، Nishat Power، Nishat Chunian Power، Sapphire Electric اور دیگر شامل ہیں۔

## سیاست دانوں کا تعلق کہاں آتا ہے؟

پاکستان میں کاروبار اور سیاست کے درمیان تعلق ایک الگ اور پیچیدہ موضوع ہے۔ بعض کاروباری شخصیات بعد میں سیاست میں آئیں، بعض سیاسی خاندانوں کے کاروباری مفادات رہے، جبکہ بعض IPPs خالصتاً نجی کاروباری گروپس کی ملکیت ہیں۔

اس لیے کسی مخصوص سیاست دان کے بارے میں یہ کہنا کہ **”فلاں IPP اسی سیاست دان کی کمپنی ہے”** صرف سیاسی وابستگی، ڈائریکٹر شپ یا کسی خاندان کے تعلق کی بنیاد پر نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے لیے **SECP، PSX، کمپنی سالانہ رپورٹس اور beneficial ownership records** سے تصدیق ضروری ہے۔

## اصل سوال: 27 کھرب روپے کا بوجھ کون اٹھا رہا ہے؟

یہ معاملہ صرف IPPs کے مالکان تک محدود نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ Capacity Payments، Energy Payments، گردشی قرضے، بجلی کی کم طلب اور مہنگے ٹیرف کا مجموعی بوجھ آخرکار **بجلی صارفین، حکومت اور قومی خزانے** پر کس حد تک منتقل ہو رہا ہے۔

2024 میں بھی پاکستان میں IPPs کے ساتھ معاہدوں پر نظرثانی اور Capacity Payments کم کرنے کے لیے مذاکرات ہوئے تھے، جبکہ متعدد IPPs نے معاہدوں کی شرائط اور مالی حسابات پر حکومت سے اختلافات بھی ظاہر کیے تھے۔

### انسانی حقوق کا زاویہ

مہنگی بجلی براہ راست شہریوں کے **معاشی اور سماجی حقوق** کو متاثر کرتی ہے۔ جب بجلی کے نرخ بڑھتے ہیں تو کم آمدنی والے خاندانوں کے بجٹ پر دباؤ بڑھتا ہے، صنعتی لاگت میں اضافہ ہوتا ہے اور روزمرہ اشیاء کی قیمتوں پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔

ایچ آراین ڈبلیو کے نزدیک حکومت کے لیے ضروری ہے کہ IPPs کو کی جانے والی تمام بڑی ادائیگیوں، Capacity Payments، معاہدوں، beneficial ownership اور بجلی کی پیداواری لاگت کے اعداد و شمار کو عوام کے سامنے مکمل شفافیت کے ساتھ پیش کیا جائے۔

**عوام کو یہ جاننے کا حق ہے کہ قومی خزانے سے کتنی رقم کس کمپنی کو، کس معاہدے کے تحت اور کس بنیاد پر ادا کی جا رہی ہے۔**

### HRNW Support Appeal

ہیومن رائٹس نیوز ورلڈ وائیڈ (ایچ آراین ڈبلیو) عوامی مفاد، معاشی انصاف، انسانی حقوق اور حکومتی احتساب سے متعلق اہم معاملات کو آزادانہ طور پر اجاگر کرنے کے لیے کام کر رہا ہے۔

**HRNW کو سپورٹ کرنے کے لیے:**
[HRNW Support Appeal](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)

### ڈسکلیمر

اس رپورٹ میں کمپنیوں اور کاروباری گروپس کے حوالے سے معلومات دستیاب سرکاری فہرستوں، PSX ریکارڈز، کمپنی سالانہ رپورٹس اور کریڈٹ ریٹنگ دستاویزات کی بنیاد پر پیش کی گئی ہیں۔ کسی کاروباری گروپ یا فرد کو غیر قانونی عمل، بدعنوانی یا غلط کاری کا مرتکب قرار نہیں دیا جا رہا۔ **IPP کی ملکیت یا کسی سیاسی شخصیت سے کاروباری تعلق بذاتِ خود کسی غیر قانونی عمل کا ثبوت نہیں ہے۔** ادائیگیوں کے اعداد و شمار کے حوالے سے حتمی مالی تصدیق متعلقہ سرکاری مالیاتی ریکارڈ سے کی جانی چاہیے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں