26

سرکاری اداروں اور اہم عہدوں پر سابق فوجی افسران کی تعیناتیوں کی طویل فہرست زیرِ گردش

**اسلام آباد (ایچ آراین ڈبلیو)** — مختلف سرکاری اداروں، خودمختار اداروں، سفارتی عہدوں اور انتظامی مناصب پر حاضر سروس اور ریٹائرڈ فوجی افسران کی تعیناتیوں سے متعلق ایک طویل فہرست سوشل میڈیا اور مختلف حلقوں میں زیرِ گردش ہے۔

زیرِ گردش فہرست میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ **میجر جنرل (ر) ڈاکٹر اظہر محمود کیانی** کو پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز کا مشیر برائے صحت مقرر کیا گیا، جبکہ **لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر احمد بٹ** کو چیئرمین نیب تعینات کیا گیا۔

فہرست میں **لیفٹیننٹ جنرل محمد عامر** کو متحدہ عرب امارات میں پاکستان کا سفیر، **میجر جنرل فرحت عباسی** کو برونائی، **میجر جنرل اختر جیل راؤ** کو بوسنیا، **میجر جنرل سجاد علی خان** کو اردن، **وائس ایڈمرل اطہر مختار** کو مالدیپ اور دیگر سابق فوجی افسران کو مختلف ممالک میں سفارتی ذمہ داریاں دینے کے دعوے بھی شامل ہیں۔

اسی فہرست میں **لیفٹیننٹ جنرل حمود زمان** کو سیکرٹری دفاع، **کیپٹن (ر) خرم آغا** کو مختلف اوقات میں چیئرمین ہائی وے اتھارٹی اور وفاقی سیکرٹری داخلہ، جبکہ **لیفٹیننٹ جنرل (ر) منیر افسر** کو چیئرمین نادرا اور **لیفٹیننٹ جنرل (ر) سجاد غنی** کو چیئرمین واپڈا مقرر کیے جانے کا ذکر کیا گیا ہے۔

فہرست میں **ایف پی ایس سی، پنجاب پبلک سروس کمیشن، آزاد کشمیر پبلک سروس کمیشن، این ڈی ایم اے، سپارکو، پاکستان اسپورٹس بورڈ، پی آئی اے، پی ٹی سی ایل، نیشنل ٹیکنالوجی کونسل، نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (NUST)** اور دیگر اداروں میں بھی فوجی یا ریٹائرڈ فوجی افسران کی تعیناتیوں کے دعوے شامل ہیں۔

مزید برآں، فہرست میں نادرا میں ریٹائرڈ انٹیلی جنس افسران کی بھرتیوں، پنجاب نارکوٹکس فورس میں حاضر سروس فوجی افسر کی تعیناتی اور سابق و حاضر سروس فوجی اہلکاروں کی بھرتیوں سے متعلق بھی دعوے کیے گئے ہیں۔

تاہم، فراہم کردہ فہرست میں **متعدد نام، عہدے اور تعیناتیوں کے حوالے سے تکرار اور باہمی تضاد** بھی موجود ہے۔ بعض عہدوں کے لیے ایک سے زیادہ افراد کے نام درج ہیں، اس لیے تمام دعوؤں کی سرکاری نوٹیفکیشنز سے تصدیق ضروری ہے۔

### انسانی پہلو

اعلیٰ سرکاری عہدوں پر تقرریاں ریاستی اداروں کی کارکردگی، شفافیت اور عوامی اعتماد پر براہِ راست اثر ڈالتی ہیں۔ ایسی تعیناتیوں کے بارے میں درست اور مستند معلومات کی فراہمی اس لیے ضروری ہے تاکہ عوام تک غیر مصدقہ یا متضاد معلومات نہ پہنچیں۔

### HRNW Support Appeal

انسانی حقوق، احتساب، شفافیت اور عوامی مفاد سے متعلق آزاد صحافت کو جاری رکھنے کے لیے HRNW کو آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

[HRNW کو سپورٹ کریں](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)

### Disclaimer

یہ خبر صارف کی جانب سے فراہم کردہ فہرست کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ فہرست میں شامل تمام تعیناتیوں اور دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کی گئی۔ حتمی معلومات کے لیے متعلقہ سرکاری اداروں کے باضابطہ نوٹیفکیشنز کو مستند سمجھا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں