16

نئے انتظامی یونٹس کی تشکیل کا پہلا بڑا تجربہ، اسلام آباد سے آغاز کی تیاری

**اسلام آباد — (ایچ آراین ڈبلیو)**وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں نئے انتظامی یونٹ کی تشکیل کے حوالے سے اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں شہریوں کو اپنی منتخب اسمبلی دینے کی تجویز زیرِغور ہے۔

ذرائع کے مطابق اسلام آباد کے مستقبل کے انتظامی ڈھانچے سے متعلق مجوزہ ڈرافٹ وزیراعظم کو پیش کردیا گیا ہے۔ مجوزہ منصوبے کے تحت وفاقی دارالحکومت کے لیے اپنی اسمبلی، چیف ایگزیکٹو اور **27 انتظامی محکمے** قائم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

مجوزہ ڈرافٹ میں اسلام آباد کی **27 رکنی اسمبلی** تشکیل دینے کی تجویز شامل ہے، جس میں **21 ارکان براہِ راست عوام کے ووٹ سے منتخب** کیے جانے کی سفارش کی گئی ہے۔

تجویز کے مطابق قومی اسمبلی کے ہر حلقے سے **7 نشستیں** رکھنے کا امکان ہے، جبکہ خواتین کے لیے **5 مخصوص نشستیں** اور اقلیتوں کے لیے **ایک نشست** مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

مجوزہ انتظامی نظام کے تحت وفاقی دارالحکومت کے شہریوں کو مقامی سطح پر منتخب نمائندگی فراہم کرنے اور انتظامی امور کو زیادہ مؤثر بنانے کی کوشش کی جائے گی۔

ذرائع کے مطابق اسلام آباد کے مجوزہ انتظامی ڈھانچے کا مقصد دارالحکومت کے انتظامی معاملات کو ایک نئے طریقہ کار کے تحت منظم کرنا اور شہریوں کو فیصلہ سازی میں براہِ راست نمائندگی دینا ہے۔

تاہم مجوزہ ڈھانچے کی حتمی منظوری، آئینی و قانونی حیثیت اور اس پر عمل درآمد کے طریقہ کار سے متعلق تفصیلات متعلقہ فورمز کی منظوری کے بعد واضح ہوں گی۔

## انسانی حقوق اور عوامی مفاد

مقامی نمائندگی اور مؤثر انتظامی نظام شہریوں کو بنیادی سہولیات، شفاف حکمرانی اور فیصلہ سازی میں بہتر شرکت فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ کسی بھی نئے انتظامی یونٹ کی تشکیل میں عوامی رائے، آئینی تقاضوں، نمائندگی کے اصول اور تمام شہریوں کے مساوی حقوق کو بنیادی اہمیت دی جانی چاہیے۔

## HRNW Support Appeal

انسانی حقوق، عوامی مفاد اور ذمہ دار صحافت کے فروغ کے لیے HRNW کی معاونت کریں:

[HRNW Support Appeal](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)

## Disclaimer

یہ خبر فراہم کردہ معلومات اور مجوزہ ڈرافٹ سے متعلق دستیاب تفصیلات کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ مجوزہ انتظامی ڈھانچہ حتمی حکومتی یا قانونی منظوری سے مشروط ہوسکتا ہے۔ حتمی فیصلہ اور اس کی قانونی حیثیت متعلقہ آئینی و قانونی فورمز کی منظوری کے بعد واضح ہوگی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں