26

پاکستان کو 15 صوبوں میں تقسیم کرنے کی حکومتی تجویز غلط ہے، مولانا فضل الرحمان

**خانیوال — (ایچ آراین ڈبلیو)**جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ پاکستان میں 15 صوبے بنانے کا حکومتی فیصلہ غلط ہے، جبکہ ملک کے آئین کو مذاق بنا دیا گیا ہے۔

خانیوال میں جے یو آئی (ف) کے رہنما علامہ اکرام القادری کی عیادت کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ملک کے دو صوبے مشکلات اور بحرانوں سے دوچار ہیں، لیکن حکومت نئے صوبے بنانے کی بات کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت عوامی اعتماد مکمل طور پر کھو چکی ہے اور موجودہ حالات میں 15 صوبے بنانے کی بات درست نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سے قبل فاٹا کے انضمام کا فیصلہ بھی ان کے بقول بدترین ثابت ہوا ہے۔

مولانا فضل الرحمان نے مزید کہا کہ جمعیت علمائے اسلام (ف) پیپلز پارٹی اور پاکستان تحریک انصاف سمیت دیگر سیاسی جماعتوں سے بات چیت کر رہی ہے اور اسمبلی کے اندر مشترکہ لائحہ عمل تشکیل دیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں آئینی اور سیاسی معاملات کو سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے اور عوام کے اعتماد کو بحال کیے بغیر بڑے انتظامی یا سیاسی فیصلے کرنا مناسب نہیں۔

### انسانی حقوق اور عوامی مفاد

نئے صوبوں کی تشکیل، انتظامی تقسیم اور آئینی ترامیم جیسے معاملات براہِ راست عوام کی سیاسی نمائندگی، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور مقامی حکمرانی سے جڑے ہوتے ہیں۔ ایسے اہم فیصلوں میں پارلیمانی بحث، آئینی طریقہ کار، عوامی مشاورت اور تمام سیاسی فریقوں کی رائے کا احترام جمہوری عمل اور عوامی اعتماد کے لیے ضروری ہے۔

### HRNW Support Appeal

آزاد اور ذمہ دار صحافت کے فروغ، انسانی حقوق کی آواز کو اجاگر کرنے اور عوامی مفاد کی خبروں کو مؤثر انداز میں سامنے لانے کے لیے HRNW کی معاونت کیجیے:

[HRNW Support Appeal](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)

### Disclaimer

اس خبر میں مولانا فضل الرحمان کی جانب سے حکومت کی پالیسیوں اور ماضی کے فیصلوں سے متعلق دیے گئے بیانات ان کے اپنے سیاسی مؤقف کے طور پر شامل کیے گئے ہیں۔ ان دعوؤں کو غیر جانب دارانہ طور پر ثابت شدہ حقائق کے طور پر پیش نہیں کیا جا رہا۔ متعلقہ حکومتی یا سیاسی فریقین کو اپنے مؤقف اور وضاحت پیش کرنے کا حق حاصل ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں