**کراچی (ایچ آراین ڈبلیو)**رکنِ صوبائی اسمبلی سندھ اور پی ایس-112 کے صدر **محمد آصف موسٰی** نے گٹکا، ماوا، مین پوری اور دیگر مضرِ صحت اشیاء کے استعمال، فروخت اور تیاری کے خلاف مؤثر اقدامات اور سخت قانون سازی کا مطالبہ کرتے ہوئے سندھ اسمبلی میں قرارداد پیش کردی۔
قرارداد میں سندھ اسمبلی کے قواعد و ضوابط کے تحت مطالبہ کیا گیا ہے کہ موجودہ قوانین پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے اور گٹکا، مین پوری اور دیگر مضرِ صحت اشیاء کی تیاری، خرید و فروخت اور استعمال کے خلاف **زیرو ٹالرنس پالیسی** اختیار کی جائے۔
محمد آصف موسٰی نے کہا کہ نوجوان نسل کو منشیات اور مضرِ صحت اشیاء کے نقصانات سے محفوظ رکھنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
انہوں نے کہا کہ گٹکا، ماوا اور مین پوری جیسی مضرِ صحت اشیاء نہ صرف صحت کے لیے خطرناک ہیں بلکہ نوجوان نسل کو بھی بری طرح متاثر کررہی ہیں، لہٰذا قانون پر مؤثر عملدرآمد اور ذمہ دار عناصر کے خلاف سخت کارروائی وقت کی اہم ضرورت ہے۔
قرارداد میں متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا گیا کہ مضرِ صحت اشیاء کی تیاری اور فروخت میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے اور موجودہ قانونی نظام کو مزید مؤثر بنایا جائے۔
### انسانی حقوق اور عوامی مفاد
عوام، خصوصاً نوجوانوں اور بچوں کو مضرِ صحت اور نشہ آور اشیاء کے نقصانات سے محفوظ رکھنا صحت اور عوامی مفاد کا اہم مسئلہ ہے۔ مؤثر قانون سازی کے ساتھ ساتھ آگاہی مہم، علاج اور بحالی کی سہولیات اور قوانین پر بلاامتیاز عملدرآمد بھی ضروری ہے۔
### HRNW Support Appeal
انسانی حقوق اور عوامی مفاد سے متعلق صحافتی سرگرمیوں کی معاونت کے لیے:
[HRNW Support Appeal](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)
### Disclaimer
یہ خبر رکنِ صوبائی اسمبلی محمد آصف موسٰی کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد اور فراہم کردہ مؤقف کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ قرارداد کی منظوری اور اس پر آئندہ قانونی یا حکومتی کارروائی متعلقہ اسمبلی اور حکام کے فیصلوں سے مشروط ہوگی۔


